سری نگر۔ 15؍جون (سیاست ڈاٹ کام)۔ مسلح افواج خصوصی اختیارات قانون کی ریاست جموں و کشمیر سے برخاستگی کا انحصار ریاستی صورتِ حال میں پیشرفت پر ہوگا۔ اس کے لئے وقت درکار ہے۔ وزیر دفاع ارون جیٹلی نے آج کہا کہ جہاں تک آج کی صورتِ حال کا تعلق ہے، ہماری مسلح افواج اور مقامی صیانتی افواج صورتِ حال سے نمٹ رہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں صورتِ حال کی پیشرفت کا جائزہ لینا ہوگا۔ وہ اپنے دو روزہ دورۂ جموں و کشمیر کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
انھوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ کیا مرکز جموں و کشمیر سے صیانتی صورتِ حال میں بہتری کے پیش نظر فوج کے خصوصی اختیارات قانون کی تنسیخ پر غور کررہا ہے؟ مذکورہ بالا وضاحت کی۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ مسلح افواج کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت حقائق کا جائزہ لینے کے بعد ہی دی جاسکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر شکایت بے بنیاد ہو تو مقدمہ دائر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انھوں نے کہا کہ ایسے واقعات کا مختلف نقطۂ نظر سے جائزہ لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ مرکز آئندہ چند دن میں کشمیری پنڈتوں کی وادی میں واپسی کے لئے پالیسی اقدامات کا عنقریب اعلان کرے گا۔ وزیر دفاع ارون جیٹلی نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کشمیری علحدگی پسندوں کو مذاکرات کے عمل میں شامل کرنے کیلئے تیار ہے لیکن ہندوستان کے دستور اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی ہندوستان کے دستور اور سالمیت کے دائرہ کار میں رہنے کیلئے تیار ہے ہم ان سے بات چیت کیلئے آمادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ دو اہم مسائل ہے جن پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ۔
؎چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے کل ارون جیٹلی سے ملاقات کی تھی اور ان کے ساتھ ریاست کی صیانتی صورتِ حال کا جائزہ لیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ انھیں خوشی ہے کہ ارون جیٹلی ریاست کی صورتِ حال اور اس کو درپیش چیالنجوں کے بارے میں تفصیلات سے واقف ہوکر نئی دہلی واپس ہورہے ہیں۔ ارون جیٹلی جموں و کشمیر کے دو روزہ دورہ پر کل سری نگر پہنچے تھے۔ ان کا کوئی سیاسی ایجنڈہ نہیں تھا۔ وہ صرف ریاست کی صیانتی صورتِ حال کا جائزہ لینا چاہتے تھے۔ چیف منسٹر سے تبادلۂ خیال کے بعد پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ تبادلۂ خیال اور ریاست کی بہتر صورتِ حال کے بارے میں وہ کافی پُرامید ہیں اور سیاحوں کی کثیر تعداد میں آمد کا یقین رکھتے ہیں۔