سیاسی شخصیتوں کے محض فون کال پر قرض دیئے گئے جو تاحال واپس نہیں ہوئے
چینائی۔10اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر دفاع نرملا سیتارامن نے سرکاری اور خانگی شعبہ کی بینکوں کو بڑے پیمانے پر خراب کارپوریٹ قرضوں کا سامنا ہونے کے لیے کانگریس زیر قیادت یو پی اے حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ یہ قرضے مناسب چھان بین کے بغیر فراہم کیے گئے اور اس کے نتیجہ میں خاطی قرض دہندے ملک چھوڑکر فرار ہوگئے اور بینکوں کے پاس قرض دینے کے لیے کوئی رقم نہ رہی۔ نرملا نے یہ باتیں مفرور تاجرین جیسے وجئے مالیہ اور نیروو مودی کا حوالہ دیتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کارپوریٹ امور اور فینانس (مملکتی وزیر) کے قلمدان بھی سنبھالے ہیں اور وہ مملکتی وزیر (آزادانہ چارج) تجارت و صنعت بھی رہی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز یہاں بی جے پی ٹریڈرس ونگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑے پیمانے پر قرضے بینکوں کی جانب سے لگاتار جاری کیے گئے جبکہ اقتدار کے اعلی سطحوں سے محض ایک فون کال کیا جاتا تھا۔ چوں کہ اس طرح کے قرضے آج تک واپس ادا نہیں کیئے گئے اس لیے بینکوں کو بحران کا سامنا ہے اور وہ نئے کاروباروں کے لیے قرض ادا نہیں کرسکتے۔ نرملا نے کہا کہ تمام سرکاری و خانگی شعبہ کے بینکوں کوں اس صورتحال کے سبب مشکل کا سامنا ہے۔ اگرچہ پالیسی نے بینکوں کو اجازت دی ہے کہ قرضے فراہم کریں لیکن بینک قرض دینے کے لیے تیار نہیں کیوں کہ ان کے پاس رقم نہیں ہے ۔یہ کیوں کر پیش آیا ہے؟
امرپالی گروپ کی 9 جائیدادیں مہربند
نئی دہلی۔10 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سپیم کورٹ نے آج ہدایت دی کہ امرپالی گروپ کے نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا میں واقع 7 جائیدادوں کو مہربند کردیا جائے جہاں اس گروپ کے 46 کمپنیوں سے متعلق دستاویزات رکھے گئے ہیں۔ جسٹس یو یو للت اور جسٹس ڈی وائی چندر چور کی بنچ نے بہار میں راجگیر اور بکسر میں واقع اس گروپ کی 2 جائیدادوں کو بھی مہربند کردینے کا حکم دیا ہے۔