خدمت خلق میں سکون ہی سکون ، سعودی عرب میں ہندوستانیوں کی مثالی خدمات

خدمت خلق میں سکون ہی سکون ، سعودی عرب میں ہندوستانیوں کی مثالی خدمات
سعودی عرب ، ہندوستان باہمی تجارت میں ہر سال زائد از 12 فیصد اضافہ
جدہ میں مقیم حیدرآبادی شخصیت میر غضنفر علی ذکی سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 5 ۔ ستمبر : مملکت سعودی عرب میں 2.5 ملین ( یعنی 25 لاکھ ) ہندوستانی تارکین وطن برسرکار ہیں ۔ یہ تارکین وطن جہاں اپنی محنت ، دیانت داری ، خوش اخلاقی اور اعلیٰ کردار کے ذریعہ سعودی عرب کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔ وہیں اپنے وطن عزیز ہندوستان کو ہر سال اربوں ڈالرس روانہ کرتے ہوئے اس کے بیرونی زر مبادلہ کے ذخیرہ میں اضافہ کا باعث بن رہے ہیں ۔ سعودی عرب میں مقیم پیشہ وارانہ ماہرین اور اہم عہدوں پر فائز شخصیتوں کے علاوہ تاجرین و صنعت کار ہندوستان میں فلاحی خدمات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ اس طرح یہ وطن سے دور رہنے کے باوجود اہل وطن کی خوشحالی کو یقینی بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے ۔ سعودی عرب میں حیدرآبادیوں کی بھی کثیر تعداد مقیم ہے انہیں وہاں کے قدیم لوگ ماضی میں ہندوستان بلکہ دنیا کی دولت مند ترین مملکت کے شہری کہتے ہیں ۔ سعودی شہریوں کو اچھی طرح پتہ ہے کہ ایک دور میں حیدرآباد سے وہاں نذرانے و عطیات جایا کرتے تھے ۔ غرض وہاں فلاحی کاموں میں مصروف ہندوستانیوں بالخصوص حیدرآبادیوں میں ایک نام بہت مشہور ہے اور وہ ہیں آندھرا پردیش کی جانب سے سنتوش ٹرافی فٹبال ٹورنمنٹ میں حصہ لے چکے جناب غنضفر علی ذکی ۔ نور خاں بازار دارالشفاء کے ساکن غضنفر علی ذکی 1992 سے سعودی عرب میں مقیم ہیں اور ہندوستانی کمیونٹی اور تجارتی و سفارتی حلقوں میں وہ ایک سماجی جہد کار فلاح کار اور ایک قابل منتظم کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ۔ حال ہی میں وہ حیدرآباد آئے ۔ ایک ملاقات میں جناب غضنفر علی ذکی نے بتایا کہ وہ گذشتہ 21 برسوں سے سعودی دیار کنسلٹنٹس آرکیٹکٹس اینڈ انجینئرس میں پراجکٹ الیکٹریکل ڈیزائنر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ نور خاں بازار کی معزز شخصیت میر احمد علی مرحوم اور لطیف النساء رضوی کے اس قابل فرزند کے مطابق ان کے دادا میر جمال علی مرحوم پیالیس ٹاکیز میں مینجر کی حیثیت سے خدمات دیتے تھے ۔ جب کہ والدہ تاریخی سالار جنگ میوزیم میں لائبریرین کے عہدہ پر فائز تھیں اب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ہی جدہ میں مقیم ہیں ۔ میر غضنفر علی ذکی کی اکلوتی بہن ڈاکٹر انجم فاطمہ ایم آر سی او جی ایم ڈی عثمانیہ بھی جدہ میں کافی شہرت رکھتی ہے ۔ جناب ذکی نے بتایاکہ انہوں نے سعودی عرب میں حیدرآباد ینگ مینس اسوسی ایشن اور حیدرآباد فٹبال اسوسی ایشن قائم کی اور حیدرآبادی فٹبال کھلاڑیوں کے ساتھ ایک ٹیم تشکیل دیتے ہوئے کئی ٹورنمنٹس میں حصہ لیا ۔ اب وہ سعودی انڈین بزنس نٹ ورک کی ایکزیکٹیو کونسل میں ایکزیکٹیو سکریٹری کے علاوہ سیکٹورل ہیڈ آف انرجی اینڈ پاور کے عہدہ پر فائز ہیں ۔ جب کہ 28 اگست کو انڈین امپورٹرس اسوسی ایشن نے انہیں مملکت سعودی عرب میں اپنا نائب صدر بنایا ہے ۔ جناب غضنفر علی ذکی سعودی عرب میں کئی فلاحی اداروں سے بھی وابستہ ہیں ۔ خاص طور پر نطاقہ کے دوران انہوں نے ہندوستانی تارکین وطن کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں ۔ جب کہ وہ مملکت میں انتقال کرجانے والے ہندوستانیوں کی میتوں کو وطن بھیجنے میں بھی کافی اہم رول ادا کرتے ہیں۔ اس ضمن میں سابقہ ہندوستانی قونصل جنرل جناب فیض احمد قدوائی نے ان کی ستائش کرتے ہوئے توصیف نامہ عطا کیا ۔ جدہ اور سعودی عرب کے مختلف مقامات پر ہندوستانی تارکین وطن کے لیے کیرئیر گائیڈنس پروگرام ، اعلی تعلیم کے مواقع سے متعلق رہنمائی ، نگہداشت صحت سے متعلق شعور بیداری پروگرامس ، سمیناروں ، اسپورٹس اور دیگر تہذیبی و ثقافتی پروگرامس کا انعقاد بھی ان کے مشاغل میں شامل ہیں ۔ انہوں نے جدہ میں ہندوستانی مغلائی ڈشس کے فیسٹیول کا اہتمام کیا جسے سعودی شہریوں اور دیگر ممالک کے تارکین وطن نے خوب سراہا ۔ ذکی ہندوستانی تارکین وطن ورکروں اور آجرین کے درمیان تنازعات کے حل میں بھی آگے آگے رہتے ہیں ۔ وہ انڈین یوتھ ویلفیر اسوسی ایشن کے بانی جنرل سکریٹری بھی ہیں اور اس کے بیانر تلے ہندوستانی و مغلائی فوڈ فیسٹیول کا انعقاد عمل میں آیا تھا ۔ شہر کے مشہور اسکول آل سینٹس سے اسکولی تعلیم کاچیگوڑہ کالج سے کالج کی تعلیم مکمل کرنے والے غضنفر علی ذکی کا کہنا ہے کہ وہ بلا لحاظ مذہب و ملت و مسلک ہر پریشان حال ہندوستانی اور حیدرآبادی تارکین وطن کی مدد کرنے کو خود کے لیے اعزاز سمجھتے ہیں ۔ وہ جدہ تلگو اکیڈیمی کے جنرل سکریٹری بھی ہیں اور ہندوستانی اسکولوں میں تلگو متعارف کروانے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہے ۔ اے پی ایس آر ٹی سی کی فٹبال ٹیم کے 6 سال تک کپتان رہنے والے ذکی اے پی اسپورٹس ہاسٹل میں دو برسوں تک تربیت بھی حاصل کی وہ سی سی او بی کے لیے بھی کھیلتے رہے ۔۔ mriyaz2002@yahoo.com