سادھوی پراچی نے مدر ٹریسا کو بھی نہیں بخشا
دہرہ دون ۔ 2 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی ایم پی سادھوی پراچی نے آج ایک بار پھر اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے بالی ووڈ کے تین مشہور خانس یعنی عامر خان ، سمان خان اور شاہ رخ خان کو نشانہ بنایا اور کہا کہ ان تینوں کی فلمیں ملک میں تشدد کو بڑھاوا دے رہی ہیں لہذا عوام کو چاہئے کہ وہ ان تینوں خانس کو اپنا رول ماڈل تصور نہ کریں۔ وشوا ہندو پر یشد کے ایک پروگرام میں کل اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سادھوی نے کہا کہ ایک بار میرٹھ میں وہ ایک پروگرام میں شریک ہوئی تھیں اور وہاں انہوں نے ایک نوجوان لڑکے سے پوچھا تھا کہ وہ مستقبل میں کیا بننا چاہتا ہے تو اس نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ریتک روشن ، شاہ رخ خان ، سلمان خان یا عامر خان بننا چاہتا ہے ۔ سادھوی پراچی اپنے متنازعہ بیانات کیلئے منفی شہرت کی حامل ہیں۔ سادھوی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب اس نے نوجوان کی ماں سے پوچھا کہ کیوں ؟ تو اس نے جواب دیا کہ مذکورہ بالا تمام اداکار اسٹنٹ کرنے میں لاجواب اور ماہر ہیں جس پر سادھوی نے کہا کہ خان اسٹارس کی فلمیں چونکہ تشدد کو بڑھاوا دیتی ہیں ۔ لہذا نوجوان نسل کو ان اسٹارس کو اپنا آئیڈیل ماننا مناسب نہیں ۔ اس موقع پر انہوں نے خان اسٹارس کی فلموں کی دائیں جانب کے گروپس کی جانب سے بائیکاٹ کا انتباہ بھی دیا اور کہا کہ وہ بجرنگ دل کے ورکرس سے یہ خواہش کرتی ہیں کہ تمام خان اسٹارس کے پوسٹرس کو پھاڑ کر جلادیا جائے ۔ انہوں نے اس موقع پر مدر ٹریسا جیسی عظیم ہستی کو بھی نہیں بخشا اور کہا کہ وہ دیگر مشنریز کی طرف خدمت کے نام پر عیسائی مذہب کی تبلیغ کیا کرتی تھیں۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے بھی کچھ روز قبل مدر ٹریسا کے خلاف ایسا ہی بیان دیا تھا جہاں ان پر خدمت کے نام پر عیسائیت کے مبلغ ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا ۔انہوں نے کہا تھا کہ مدر ٹریسا کی خدمات سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کے پس پشت ان کا مقصد عیسائیت کی تبلیغ تھا۔ این جی او اپنے گھر کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام میں اپنے خطاب کے دوران موہن بھاگوت نے یہ بات کہی تھی۔ سادھوی پراچی نے مزید زہر افشانی کرتے ہوئے کہا کہ ہندو خواتین کو چار بچے پیدا کرنے چاہئے کیونکہ مسلمان ’’ہماری بیٹیوں‘‘ کو لو جہاد کے ذریعہ اپنے جال میں پھنسا رہے ہیں۔ ہندوؤں کی آبادی انحطاط پذیر ہے ۔ لہذا ملک کے دیگر فرقوں کے ساتھ توازن برقرار رکھتے ہوئے زیادہ بچے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنی بات دہرائی اور کہا کہ ہندوؤں کو خان اس ٹارس کی فلموں کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔