بی جے پی رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج کی ایک اور اشتعال انگیزی
انائو(یو پی ) ۔13اپریل ( سیاست ڈاٹ کام )اپنے متنازعہ بیانات کیلئے شہرت رکھنے والے بی جے پی رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے مطالبہ کیا کہ خاندانی منصوبہ بندی کیلئے سخت قانون بنایا جائے اور آبادی میں اضافہ کو روکنے کیلئے تمام کو اس کے تحت لایا جائے ۔جو لوگ اس پر عمل آوری نہیں کرتے انہیں حق رائے دہی سے محروم کردیا جائے ۔ انہوں نے ایک تقریب کے دوران علحدہ طور پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب ہندو نس بندی کرواسکتے ہیں تو مسلمانوں کو بھی ایسا کروانا چاہیئے ‘ ہر شخص کیلئے یکساں قانون ہونا چاہیئے ۔ کسی بھی طبقہ کی چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو خوشامد نہیں کی جانی چاہیئے ۔ بھگوا ملبوس پہنے ہوئے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہتے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کی نس بندی کی جانی چاہیئے لیکن خاندانی منصوبہ بندی کے تحت ہر ایک کیلئے یکساں قانون ہونا چاہیئے ۔ جب ہم چار بچوں کے مسئلہ پر بات چیت کرتے ہیں تو کافی شوروغل کیا جاتا ہے اور جب وہ چار بیویوں سے چالیس بچے پیدا کرتے ہیں تو کوئی کچھ نہیں کہتا ۔ انہوں نے پُرزور انداز میں کہا کہ آبادی میں اضافہ ملک کو درپیش ایک بڑا چیلنج ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ خاندانی منصوبہ بندی کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک کو آزادی حاصل ہوئی تو اس کی آبادی صرف 30کروڑ تھی ‘ آج 130کروڑ ہے ‘ ا س کیلئے کون ذمہ دار ہیں ؟ ۔ ہر ایک کیلئے ایک ہی قانون ہونا چاہیئے چاہے تو ہندو ہو ‘ مسلمان ہو ‘ سکھ ہو یا عیسائی ۔ انہوں نے کہاکہ ایک ‘ دو ‘ تین یا چار بچوں کیلئے جب تک کہ ہر ایک کیلئے یکساں قانون نہ ہوں ملک کو فائدہ نہیں ہوگا ‘ اس لئے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو متحد ہوکر ایک سخت قانون منظور کرنا چاہیئے اور جو لوگ اس پر عمل آوری نہ کریں انہیں حق رائے دہی سے محروم کردینا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ مختلف طبقوں کی خواتین کے ساتھ مختلف رویہ اختیار نہیں کرسکتے ۔ سنجے راوت کے متنازعہ بیان کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ بیان ہنوز نہیں دیکھا ہے ۔