خالدہ ضیاء ’معاملت‘ پر رضامند

ڈھاکہ۔ 12 فبروری۔(سیاست ڈاٹ کام) بڑی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ خالدہ ضیاء تقریباً چالیس دن سے اپنے دفتر میں نظر بند رہنے اور پر تشدد واقعات کے حوالے سے خود پر عائد متعدد الزامات کے بعد اپنی حریف شیخ حسینہ واجد کے ساتھ ’معاملت‘ کرنے پر رضامند نظر آرہی ہیں۔ نیوز ایجنسی ’اے ایف پی‘ کو انٹرویو میں خالدہ نے وزیراعظم پر جمہوریت کے قتل جبکہ ان کی جماعت عوامی لیگ پر رواں برس کے آغاز سے ملک میں جاری پر تشدد واقعات کا ذمہ دار ہونے کا الزام لگایا۔تاہم انھوں نے ملک کو اس بحران سے نکالنے پر بھی زور دیا، چاہے اس کیلئے انھیں اپنی سیاسی حریف سے بات چیت کیوں نہ کرنی پڑے۔ خالدہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر کسی غیر جانبدار نگران حکومت کی موجودگی میں انتخابات کے حوالے سے کسی نتیجے پر نہ پہنچا گیا تو ملک میں خون خرابہ ہو سکتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کا ہر ہوش مند اور ذی شعور شخص یہ بات جانتا ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کے خاتمے کا واحد حل صاف شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔