چینائی۔25 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت ٹامل ناڈو کے آج ریاستی ایڈوکیٹ جنرل مسٹر وجئے نارائن نے جسٹس ایس ویدیا ناتھن کو ایک ویڈیو کلپ پیش کی جو جولائی 1980ء کو جیہ للیتا کی ایک تقریب میں شرکت کے متعلق ہے، بنگلور کی متوطن ایک خاتون کا دعوی ہے کہ وہ جیہ للیتا کی حیاتیاتی بیٹی ہے جس کی وجہ پیدائش جیہ للیتا کے بطن سے 14 اگست 1980 ء کو ہوئی ہے اور وہ ڈی این اے ٹسٹ کروانے کی مانگ کررہی ہے۔ اس ویڈیو میں جو 27 واں فلم فیر ایوارڈ فنکشن سے متعلقہ ہے جیہ للیتا کے اڈوانس اسٹیج حاملہ ہونے کی تصدیق نہیں کرتی۔ اس کا تعلق آئینگار برادری سے ہے اور وہ جیہ للیتا کے باقیات کو نکال کر ڈی این اے کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت سے رجوع ہوئی ہے۔ریاستی ایڈوکیٹ جنرل نے بیان دیا کہ یہ صرف من گھڑت کہانی ہے اور خاتون کا مطالبہ دراصل مرحوم وزراء اعلی کی توہین کے مترادف ہے۔ درخواست گزار خاتون کا بیان ہے کہ وہ 14 اگست 1980ء کو پیدا ہوئی اور اس کی پرورش جیہ للیتا کی چھوٹی بہن سیلاجہ نے بنگلور میں کی ہے۔ جیہ للیتا کی فیملی نے اس کی بہن سیلاجہ کو اس وجہ سے بے دخل کردیا تھا کہ کیوں کہ وہ جیہ للیتا کے باپ کے انتقال کے بعد پیدا ہوئی تھی۔