خاتون سیاسی لیڈروں پرپارٹیوں کو بھروسہ نہیں

خاتوں امیدواروں کی تعداد میں مسلسل گراوٹ
حیدرآباد۔20 مارچ ۔ (سیاست نیوز) الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی تلنگانہ میں خاتون سیاسی امیدواروں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ریاست میں خاتوں امیدواروں کی مقبولیت نا صرف آٹے میں نمک کے برابر ہے بلکہ ہر گزرتے انتخاب کے ساتھ خاتون امیدواروں کی تعداد گھٹ رہی 2009 کے انتخابات میں جہاں 23 امیدواروں نے میدان سنبھالا تھا وہی 2014 کے انتخابات میں امیدواروں کی تعداد میں کمی ہوئی اور یہ تیزی سے گھٹ کر اٹھارہ ہو گئے۔ 2019 میں انتخابات ہونے والے ہیں تو خاتون امیدواروں کی تعداد میں کوئی حوصلہ افزا اضافہ دکھائی نہیں دے رہا ہے بلکہ اس بات کا امکان ہے کہ اس مرتبہ خاتون امیدواروں کی تعداد میں مزید کمی واقع ہوگی جیسا کہ کانگریس کی جانب سے جو ابتدائی فہرست جاری کی گئی اس میں 16 امیدواروں کے نام درج ہیں لیکن اس میں ایک بھی خاتون امیدوار نہیں ہیں جبکہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کی امیدواروں کی فہرست میں ایک یا دو خاتون امیدوار موجود ہیں۔ 2009 اور 2014 کے انتخابات میں ان جماعتوں نے خاتون امیدواروں کو زیادہ ٹکٹ دیں جنکی تلنگانہ میں کوئی خاص مقبولیت نہیں تھی۔ 2014 کے انتخابات میں 12 خاتون امیدوار میدان میں تھیں جن میں بھی چار امیدوار آزاد امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کیا تھا ۔