حیدرآباد میں پانی کی سربراہی کے لیے ماسٹرپلان 2041تیار

حیدرآباد16جولائی (سیاست نیوز)گریٹرحیدرآباد میں ہرروزپینے کے پانی کی سپلائی کویقینی بنانے کے لیے ماسٹرپلان تیارکرلیاگیاہے۔حیدرآباد میٹرو پالیٹن واٹرسپلائی اینڈسیوریج بورڈ نے گریٹرحیدرآباد کے لیے ماسٹرپلان 2041تیارکرلیاہے۔اس ماسٹرپلان پر کتنے روپئے خرچ کیے جائیں گے۔اورکس طرح اس ماسٹرپلان پرعمل آوری ہوگی۔واٹر بورڈ نے گریٹر حیدرآباد کے لیے 18 ہزار 7سو74 کروڑ روپئے خرچ کرنے منصوبہ بنایاہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت کے بعد حکام نے ماسٹرپلان2041 تیارکرلیا ہے۔واٹر بورڈ کے حکام کا کہناہے کہ آئندہ چارسال میں 4ہزار2سو38 کروڑ روپئے خرچ کرتے ہوئے شہرکے واٹرسپلائی نظام کو مستحکم بنایاجائیگا۔جس کے بعد شہر کے علاوہ مضافاتی علاقوں میں طویل مدتی پروجیکٹس تعمیر کیے جائیں گے۔ان پروجیکٹس تعمیر کے لیے 2041تک 12ہزار5سو56کروڑروپئے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایاگیاہے۔حکام کا کہناہے کہ واٹرسپلائی ماسٹرپلان کے لیے 1ہزار6 سو32 کروڑ روپئے مرکزی حکومت کی اسکیم جے این این یو آر ایم سے حاصل کیے جائیں گے۔ جبکہ ماباقی اخراجات کو جی ایچ ایم سی اور تلنگانہ حکومت برداشت کریگی۔

حیدرآبادمیٹروپالیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے مطابق ہر روزجی ایچ ایم سی حددومیں 4سو 60 ایم جی ڈی یعنی میلینس آف گیلنس ہر دن پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔تاہم اس وقت صرف 3سو50 ایم جی ڈی پانی سپلائی کیاجارہاہے۔ اس وجہ سے شہر کے حیدرآباد کے مضافاتی علاقوں میں عوام کو پانی کی قلت کا سامناکرنا پڑرہاہے ۔ شہرحیدرآباد کو سنگور ، منجیرہ ،حمایت ساگر،عثمان ساگر کے علاوہ کرشنا پروجیکٹ کے مرحلے اول ودوم سے پانی سپلائی کیاجارہاہے۔ حکام کا کہناہے کہ کرشنا پروجیکٹ کے تیسرے مرحلے کومکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس کے علاوہ گوداوری پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کے تعمیراتی کاموں کو شروع کرنے کا منصوبہ بنایاگیاہے۔واٹر بورڈ شہر کے مضافاتی علاقوں میں پانی کی سپلائی کویقینی بنانے کے لیے 12سوکروڑروپئے خرچ کا منصوبہ بنارہے ہیں۔حکام کا کہناہے کہ شہر کے مضافاتی علاقے اْوپل ،قطب اللہ پور،کاپرا، راما چندراپورم ،ایل بی نگر،پٹن چیرو، الوال، کوکٹ پلی کے علاوہ دیگرعلاقوں میںپانی سپلائی کے لیے پائب لائین بجھائی جائیگی۔ اس کے علاوہ شہر حیدرآباد کے 10زونس میں پانی سپلائی کے لیے مرمتی کاموں پر400کروڑروپئے خرچ کیے جائیں گے۔

حکام کا کہناہے کہ گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں ضم ہونے والے علاقوں میں نئی پائپ لائن بجھانے اور قدیم آبی لائینوں کی مرمت کے 8سو42کروڑروپئے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایاگیاہے۔اس کے علاوہ حیدرآباد میٹرو پالیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈگریٹرحیدرآباد میں سیوریج سسٹم کوبھی مزیدبہتربنانے پرغورکررہاہے۔حکام کاکہناہے کہ آصف جاہی دور میں حیدرآباد کے سیوریج لائن بجھائی گئی تھی۔تاہم آبادی میں اضافے کے سبب شہرکے سیوریج سسٹم کی توسیع لازمی ہوگئی ہے۔اس لیے کے سی آر حکومت گریٹرحیدرآباد کے سیوریج سسٹم کوبہتربنانے پرغورکررہی ہے۔حکام کا کہناکہ حیدرآباد کے اہم شہری علاقے یعنی قدیم حیدرآباد میونسپل کارپوریشن حددوسیوریج سسٹم کی توسیع کے لیے 1200کروڑروپئے خرچ کیے جائیں گے۔جبکہ شہر کے مضافاتی علاقوں میں سیوریج سسٹم کی توسیع کے لیے 2ہزار5سوکروڑروپئے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایاگیاہے۔اس کے علاوہ 923کروڑروپئے خرچ کرتے ہوئے موسیٰ ندی کی صفائی کو یقینی بنانے کا منصوبہ بنایاجارہاہے۔