حیدرآباد 21 اپریل (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل مسٹر محمد فاروق حسین کی نمائندگی پر چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے حیدرآباد میں بڑے پیمانے پر عالمی اُردو کانفرنس سرکاری طور پر منعقد کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ مسٹر محمد فاروق حسین نے اپنی یادداشت میں بتایا کہ اُردو داں طبقہ نے علیحدہ تلنگانہ ریاست تحریک میں کلیدی رول ادا کیا اور ساتھ ہی 2014 ء کے عام انتخابات میں ٹی آر ایس پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ تلنگانہ میں اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا بھی درجہ دیا گیا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت اُردو کی ترقی کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے اسمبلی اور کونسل میں بھی اس کا اعلان کیا ہے۔ 30 سال قبل سابق چیف منسٹر آنجہانی چناریڈی نے اُردو کی ترقی اور فروغ کے لئے سنجیدگی سے کام کیا تھا اس کے بعد سرکاری سطح پر اس طرح کے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ اُردو والوں کی ٹی آر ایس حکومت سے کافی اُمیدیں وابستہ ہیں لہذا وہ آپ سے (چیف منسٹر) سے خواہش کررہے ہیں کہ آئندہ ماہ مئی اور جون کے دوران حیدرآباد کے تلگو للت کلا تھورانم میں دو روزہ عالمی اُردو کانفرنس کا سرکاری طور پر انعقاد کریں۔ جس میں سمینار اور مشاعرہ کا بھی اہتمام کرتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ شاعر، دانشور اور اسکالرس کو امریکہ، انگلینڈ، کینیڈا، آسٹریلیا کے علاوہ مشرقی وسطی پاکستان اور بنگلہ دیش سے مدعو کیا جائے۔
اس عالمی اُردو کانفرنس میں بیرونی ممالک کے 30 اور ہندوستان کے 150 مندوبین کو دعوت دی جائے۔ اس کانفرنس پر تقریباً 75 لاکھ تا ایک کروڑ روپئے کے مصارف کا تخمینہ ہے۔ فاروق حسین کی اس نمائندگی پر چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے ہمدردانہ ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ اُردو زبان کا بہت احترام کرتے ہیں۔ ان کے بزرگ اُردو زبان سے اچھی طرح واقف تھے۔ اُردو حیدرآبادی میں پیدا ہوئی دہلی میں پلی بڑی اور لکھنو میں جوان ہوئی ہے۔ وہ اُردو زبان کو فروغ دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ حیدرآباد میں عالمی اُردو کانفرنس کے انعقاد کے لئے وہ پوری طرح تیار ہے۔ اس پر ایک کروڑ روپئے کی بات ہی کیا ہے اگر دو کروڑ روپئے بھی خرچ ہوں تو حکومت اس کا اہتمام کرنے کے لئے تیار ہے۔ عالمی اُردو کانفرنس کے اہتمام سے انھیں اُردو دانشوروں اور شاعروں سے ملاقات کرنے کا موقع ملے گا اور یہ کانفرنس تلنگانہ میں اُردو کو ترقی دینے سے معاون و مددگار ثابت ہوگی۔