حیدرآباد کے مخصوص سیاسی جماعت کے تعلیمی ادارہ جات کے طلبہ میں تشویش

سیاسی اجلاس میں شرکت کے لیے دباؤ ،عدم شرکت پر امتحانات سے محروم کرنے کا انتباہ ، طلبہ کو فون کالس
حیدرآباد۔7نومبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں مخصوص سیاسی جماعت کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے طلبہ و طالبات کو سیاسی اجلاس میں شرکت کے لئے دباؤ ڈالتے ہوئے انہیں اجلاس میں شرکت اور سیاستدانوں کی ستائش کے لئے مجبور کیا جا رہاہے اور انتظامیہ کی جانب سے عدم شرکت پر امتحانات میں شرکت نہ کرنے دینے کا انتباہ دیا جا رہاہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں کا جال پھیلانے کے دعویدارو ںکا دراصل مقصد کیا ہے ۔ تعلیمی اداروں اور اعلی تعلیم کے ذریعہ نوجوان نسل کو فکری آزادی حاصل ہوتی ہے اور ایک منظم سازش کے تحت ان کی فکری آزادی کو چھین کر ان میں غلامی کا عنصر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مفت تعلیم کے احسان تلے دبے رہنے کے علاوہ اس طرح کے خوفزدہ کرنے والے فون کالس کے ذریعہ نہ صرف طلبہ بلکہ ان کے والدین اور سرپرستوں کو بھی خائف کیا جائے اور ان کے ووٹ حاصل کئے جائیں۔ پرانے شہر کے بعض علاقوں سے اس بات کی شکایت موصول ہوئی ہے کہ سیاسی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو ان تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کی جانب سے فون کرتے ہوئے سیاسی اجلاسوں میں شرکت کیلئے کہا جا رہاہے اور شرکت نہ کرنے کی صورت میں انہیں امتحانات میں بیٹھنے کی اجازت نہ دیئے جانے کی دھمکی بھی جا رہی ہے ۔تعلیم نوجوان نسل کو ترقی اور حقوق کے متعلق واقف کرواتی ہے لیکن اگر تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کی جانب سے ہی طلبہ کو خائف کیا جانے لگے اور انہیں جمہوری اصولوں کے مغائر جبری طور پر اپنی فکر تیار کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جانے لگے تو کیا یہ قوم کے مفاد میں ثابت ہوگا یاپھر یہ قوم کے نوجوان فکری غلامی کا شکار ہوتے چلے جائیں گے!سیاسی اجلاس میں طلبہ کی شرکت کو یقینی بنانے اور ان کو نوجوان نسل کی حمایت کے طور پر پیش کرتے ہوئے عوامی تائید حاصل کرنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے وہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے ہے جبکہ تعلیمی اداروں اور طلبہ کو ایسی کسی بھی سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھا جانا چاہئے جس میں طلبہ کی مرضی شامل نہیں ہے۔طلبہ کو مجبور کرنے والے تعلیمی اداروں کے متعلق طلبہ کو اختیار ہے کہ وہ ان تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کے خلاف نہ صرف محکمہ تعلیم سے شکایت کرسکتے ہیںبلکہ وہ انتخابی عہدیداروں بالخصوص ضلع الکٹورل آفیسر اور چیف الکٹورل آفیسر کے علاوہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ای۔میل روانہ کرتے ہوئے شکایت درج کرواسکتے ہیں اور ان اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شکایت کنندہ کے نام کا انکشاف نہ کریں۔