گولکنڈہ میں باب الداخلہ منہدم ، پتھر گٹی کے سنگ بھی ٹوٹنے لگے ہیں
حیدرآباد۔/11ڈسمبر، ( سیاست نیوز) حکومت بالخصوص محکمہ آثار قدیمہ کی شہر حیدرآباد کی تاریخی عمارتوں سے بے اعتنائی شہر کی قدیم عمارتوں کے انہدام کا باعث بن سکتی ہے۔ گزشتہ ہفتہ شہر کی سب سے قدیم تاریخی عمارت جسے عالمی ورثہ میں شامل کروانے کی کوششیں کی جارہی ہیں گولکنڈہ کا ایک باب الداخلہ محکمہ آثار قدیمہ کی غفلت کا شکار ہوتے ہوئے منہدم ہوگیا اور اب حیدرآباد کے قدیم بازار پتھر گٹی کے پتھر ٹوٹنے لگے ہیں۔ پتھر گٹی کا قیام آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کے دور میں تجارتی مقاصد کے تحت عمل میں لایا گیا تھا اور منفرد طرز کے ایک بازار کو قطعیت دیتے ہوئے نواب میر عثمان علی خاں نے پتھر گٹی کی بنیاد رکھی تھی جہاں پورے بازار میں تجارتی و رہائشی اُمور کی تکمیل کرنے والے دو منزلہ پتھروں کی عمارتیں تیار کی گئی تھیں۔ گلزار حوض سے مدینہ بلڈنگ تک موجود فن تعمیر کا شاہکار یہ بازار اب اپنی عظمت رفتہ کھونے لگا ہے اور پتھر گٹی کی کمانیں محکمہ آثار قدیمہ کی لاپرواہی کا مژدہ بیان کررہی ہیں۔ شہر کے اس خطہ میں موجود عظیم الشان پتھر گٹی کا علاقہ 1911میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس علاقہ نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں فی الحال پتھر گٹی کی کمانوں کے پتھر ٹوٹنے لگے ہیں لیکن اس پر اب بھی کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے تحت اس علاقہ میں موٹر گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ تھا تاکہ آثار قدیمہ کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت بھی یقینی بنائی جائے لیکن یہ منصوبہ بھی مکمل نہیں ہوا جس کے سبب پتھر گٹی کی حالت انتہائی ابتر ہوتی جارہی ہے۔ شہر کی تاریخی عمارتوں کا جہاں ذکر آتا ہے ان میں چارمینار، مکہ مسجد، گولکنڈہ، گنبدان قطب شاہی کے علاوہ بعض دیگر اہم تاریخی عمارتوں کا تذکرہ کرلیا جاتا ہے لیکن پتھر گٹی کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے جبکہ پتھر گٹی ملک کے اُن اہم بازاروں میں سے ایک ہے جنہیں مینا بازار جیسی شہرت حاصل ہے۔ ہندوستان بھر میں موجود تاریخی بازاروں میں پتھر گٹی بھی ایک بازار ہے جس کی تاریخی اہمیت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس عمارت کو جس انداز سے تعمیر کیا گیا ہے اس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ پتھر گٹی کو جب چاہے کمانوں کے پتھروں کے ذریعہ علحدہ علحدہ کرتے ہوئے کسی اور مقام پر منتقل کیا جاسکتا ہے لیکن پتھر گٹی کی کمانوں کے مضبوط پتھر بھی ٹوٹ رہے ہیں اور محکمہ آثار قدیمہ خواب غفلت میں ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد، حیدرآباد میٹرو پولیٹن اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی، قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کو بھی پتھر گٹی کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے فوری طور پر اقدامات کا آغاز کرنا چاہیئے بصورت دیگر ایک دن پتھر گٹی کی بھی حالت موتی دروازہ جیسی ہونے کا خدشہ ہے۔