حیدرآباد کے افق پر خلائی اسٹیشن کی پرواز

23 اپریل تا 2 مئی دلچسپ فلکیاتی نظارہ
حیدرآباد ۔ 18 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 24 اپریل تا 2 مئی حیدرآباد کے آسمان پر نمودار ہوگا ۔ لیکن اس علاقہ سے 450 ٹن وزنی اس خلائی اسٹیشن کو دور بین کے بغیر کیسے دیکھا جاسکتا ہے ؟ یہ بہت آسان ہوگا کیوں کہ عام عینکوں کے استعمال کے ذریعہ بھی اس کو دیکھا جاسکتا ہے کیوں کہ یہ خلائی اسٹیشن آسمان پر سورج کے بعد دوسری انتہائی روشن اور تابناک شئے کی حیثیت سے پہچانا جاسکتا ہے ۔ اس خلائی اسٹیشن کی پرواز ایک قابل دید نظارہ ہوگی کیوں کہ انسان کی طرف سے تیار کردہ یہ ایک دیوہیکل آلہ ہوگا جو بظاہر سیارچہ نظر آئے گا ۔ چنانچہ اس کی پرواز کے دوران کرۂ ارض کے کسی بھی متعلقہ خطہ سے اس کو بہ آسانی دیکھا جاسکتا ہے ۔ بی ایم برلا سائنس سنٹر کے ڈائرکٹر بی جی سدھارتھ نے کہا کہ حیدرآباد کے افق پر یہ سیارچہ نما بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 23 اپریل اور 2 مئی کے درمیان 7 بجے شام ایک یا دو منٹ کے لیے دیکھا جائے گا ۔ مطلع صاف رہنے کی صورت میں یہ خلائی اسٹیشن ایک تیز رفتار روشنی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ nasa.gov ویب سائٹ پر بھی اس یادگار منظر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے ۔ علاوہ ازیں آئندہ نظارہ پر الرٹ درخواست بھی رجسٹر کی جاسکتی ہے ۔ کرۂ ارض سے 400 کیلو میٹر کی بلندی پر یہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 28,800 کیلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے 90 منٹ میں ایک مرتبہ کرہ ارض کے اطراف اپنی گردش مکمل کرسکتا ہے ۔ اس اسٹیشن میں رہنے اور کام کرنے والے خلا نورد روزانہ 16 مرتبہ طلوع و غروب آفتاب کے مشاہدات کیا کرتے ہیں ۔۔