حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب کی زندہ مثال

عام آدمی کی خاص بات
حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب کی زندہ مثال
مسجد کے قریب ڈاکٹر آنند راؤ کا سوائن فلو کے ادویات کی تقسیم
حیدرآباد ۔ 6 ۔ فروری : ( نمائندہ خصوصی) : خدمت خلق کا جذبہ عصر حاضر میں معدوم ہوتا جارہا ہے لیکن اللہ تبارک و تعالی کا انتظام ہے کہ وہ کسی کے بھی دل میں انسانوں کی خدمت اور ایثار کا جذبہ بھر دیتا ہے ۔ جو بلا لحاظ مذہب وملت انسانیت کی خدمت کے لیے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ شہر و اضلاع بلکہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے وبائی مرض سوائن فلو ، کے اثرات سے عوام الناس کو محفوظ رکھنے کے لیے بلالحاظ مذہب و ملت مفت میں اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے خدمت خلق میں کئی افراد مصروف ہیں ۔ ڈاکٹر آنند راؤ مسجد نور محمد شریف واقع آرام گھر کے پاس بعد نماز جمعہ مصلیان مسجد کی چیک اپ کرکے اور انہیں مفت میں دوائیں بھی دئیے ۔ ڈاکٹر آنند راؤ جنہیں زبان اردو پر اچھا عبور حاصل ہے ۔ اس مسجد کے باہر کھڑے ہو کر یہاں نماز ادا کرنے والے مصلیوں کو مرض سوائن فلو کے حوالے سے تفصیلات اور مرض کے علامات سمجھایا ۔ انہوں نے تمام مصلیوں کو اس مرض سے محفوظ رہنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی اقدامات سے واقف کروایا اور اپنے اخراجات پر مصلیوں میں مفت دوائیں تقسیم کیں ۔ مصلیان مسجد نے ڈاکٹر کے اس اقدام کی ستائش کی اور اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ ایک غیر مسلم ہوتے ہوئے انہوں نے مسلمانوں خاص کر نمازیوں کا چیک اپ کیا ۔ احتیاطی اقدامات سے واقف کروایا ۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ان کا تعلق رگھوویندرا کالونی حیدرآباد سے ہے اور وہیں ان کا ہاسپٹل بھی ہے جہاں وہ پریکٹس کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا اس وبائی مرض سوائن فلو سے تاحال زائد از 40 افراد لقمہ اجل ہوچکے ہیں ۔ لہذا اس مرض کی وجہ سے لوگوں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے ۔ حالانکہ چند ضروری احتیاطی اقدامات کرلیے جائیں تو اس مہلک مرض سے بچا جاسکتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ چونکہ وہ اس مسجد کے قریب رہتے ہیں اس لیے یہ ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی اور قریبی مسلمانوں کو اس مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے مطلوبہ اقدامات کریں ۔ ڈاکٹر آنند راؤ جیسے افراد ہی فرقہ پرست نظریہ رکھنے والوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے جو ہر کام کو مذہبی عینک سے دیکھنے کے بجائے انسانیت کے پہلو سے دیکھتے ہیں اور یہی وہ عمل ہے جسے حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب کہتے ہیں ۔۔