روڈی شیٹروں اور غیرعناصر کے خلاف کارروائی پر ستائش : وزیرداخلہ این نرسمہاریڈی کا بیان
حیدرآباد۔/14فبروری، ( سیاست نیوز) وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد میں امن و ضبط کی صورتحال پر پولیس کی کڑی نظریں ہیں۔ غیر سماجی عناصر اور روڈی شیٹرس سے شہر کو پاک کرنے کیلئے پولیس کی جانب سے کارروائی کی جارہی ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس کی اس کارروائی پر عوام کی جانب سے زبردست ستائش حاصل ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی ترجیح امن و ضبط کی برقراری اور جرائم پر قابو پانا ہے۔ اس سلسلہ میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد پر پولیس کی کڑی نگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر سماجی عناصر اور روڈی شیٹرس کی سرگرمیوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیر داخلہ نے حیدرآباد میں ٹی آر ایس کی رکنیت سازی کو حوصلہ افزاء قرار دیا اور کہا کہ عوام کے جوش و خروش سے اندازہ ہوتا ہے کہ آئندہ گریٹر حیدرآباد مجلس بلدیہ کے انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں رکنیت سازی مہم کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ مسلم اقلیت، کمزور طبقات اور خواتین بڑی تعداد میں ٹی آر ایس کے قریب ہورہے ہیں اور رکنیت سازی قبول کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں رکنیت سازی 4لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور 10لاکھ تک پہنچنے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل بی نگر اسمبلی حلقہ میں 25000 عام اور 5000 سرگرم کارکنوں کی رکنیت سازی کی توقع کی گئی تھی لیکن اب تک 70ہزار عام کارکن اور 10ہزار سرگرم کارکن بن چکے ہیں۔ اسی طرح گوشہ محل، کوکٹ پلی، اوپل اور قطب اللہ پور اسمبلی حلقوں میں بھی عوام میں کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کی فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات کے سبب عوام پارٹی سے قریب ہورہے ہیں۔ ناگرجنا ساگر سے پانی کے مسئلہ پر تنازعہ کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر داخلہ نے کہا کہ آندھرا پردیش کو الاٹ کردہ حصے کے مطابق پانی کے استعمال کے باوجود زائد پانی طلب کرنا تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی ہے۔ دونوں ریاستوں کو اپنے اپنے حصہ کے مطابق پانی کا استعمال کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کی یکسوئی کیلئے دونوں چیف منسٹروں کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔ تلنگانہ حکومت مذاکرات کے ذریعہ باہمی مسائل کی یکسوئی کے حق میں ہے۔ اسی دوران ٹی آر ایس لیڈر پی سدرشن ریڈی نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں کل اتوار کو 1000سے زائد مقامات پر رکنیت سازی مہم چلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 150بلدی ڈیویژنس اور 24اسمبلی حلقوں میں پارٹی انچارج اور اڈھاک کمیٹی کے ارکان اس کی نگرانی کررہے ہیں۔ حیدرآباد میں عوام کی مصروفیت کو دیکھتے ہوئے اتوار کے دن ہر ڈیویژن اور ہر چوراہے پر رکنیت سازی کے کیمپ منعقد کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں ابھی تک 4لاکھ 70ہزار عام کارکن اور ایک لاکھ 10ہزار سرگرم کارکن بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام طبقات پارٹی کی رکنیت قبول کرنے میں دلچسپی دکھارہے ہیں۔