حیدرآباد کو سیاحتی مرکز میں تبدیلی کا منصوبہ بے عملی کا شکار

تاریخی عمارتوں کی ترقی و تحفظ بھی نظر انداز ، نظامیہ طبی دواخانہ کی آہک پاشی غیر مختتم
حیدرآباد۔30اگسٹ (سیاست نیوز) حکومت حیدرآباد کو سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے اعلانات کرتی رہی ہے لیکن عملی اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ حکومت کو شہر کی تاریخی عمارتوں کی ترقی و تحفظ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ تاریخی عمارتوں کی تباہی پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے یہ تاثر دے رہی ہے کہ ریاستی حکومت تاریخی عمارتوں کی تباہی کی منتظر ہے۔ شہر حیدرآباد کے سیاحوں میں بڑی تعداد شہر میں موجود تاریخی عمارتوں بالخصوص چارمینار‘ گنبدان قطب شاہی‘ گولکنڈہ‘ مکہ مسجد‘ ہائی کورٹ‘ دواخانہ عثمانیہ ‘ فلک نما پیالس ‘ خلوت پیالس ‘ شفاخانہ یونانی نظامیہ چارمینا ر کی خوبصورت عمارتوں کے مشاہدہ کیلئے ہی پہنچتے ہیں لیکن ان عمارتوں کی حالت سے سب واقف ہیں گنبدان قطب شاہی کی آہک پاشی و تزئین نو کے کام جاری ہیں جو کہ آغاخان فاؤنڈیشن کے تعاون سے کئے جا رہے ہیں لیکن اس کے علاوہ دیگر عمارتوں کی حالت انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ شہر کی تاریخی عمارتوں میں سب سے ابتر حالت شفاء خانہ یونانی چارمینار کی عمارت کی ہو رہی ہے اور اس عمارت کو فوری طور پر نہ صرف آہک پاشی کی ضرورت ہے بلکہ گذشتہ برسوں کے دوران جس نے اس عمارت کی آہک پاشی انجام دی ہے اس کے خلاف سخت کاروائی کئے جانے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ دو سال قبل ہی دواخانہ کی عمارت کو رنگ و روغن کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اندرون دو سال عمارت کی خستہ حالی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹھیکہ دار نے اس عمارت کی تزئین کے لئے مختص کردہ بجٹ کا مکمل استعمال نہیں کیا ہے یا پھر حکومت نے ہی اس مقصد کیلئے کم رقم مختص کی تھی جس کے نتیجہ میں اس عمارت کی یہ صورتحال ہوتی جارہی ہے ۔ نظامیہ یونانی طبی کالج و صدر شفاء خانہ یونانی کی عمارت تہذیبی ورثہ کے تحت محفوظ عمارتوں کے زمرہ میں شمار کی جاتی ہیں لیکن اس کے باوجود اس عمارت کے متعلق اختیار کردہ لاپرواہی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری متعلقہ محکمہ جات اس عمارت کو محفوظ رکھنے سے زیادہ اسے تباہ کرنے کے متعلق فکر مند ہیں۔مقامی عوام کا کہنا ہے کہ تاریخی چارمینا ر کے دامن میں موجود یہ خوبصورت عمارت جو کہ تاریخی مکہ مسجد کے روبرو واقع ہے اس کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شہر کی تاریخی عمارتوں کی بدحالی کا نمونہ صدر شفاء خانہ یونانی چارمینار کی عمارت بنی ہوئی ہے۔ اس عمارت کی آہک پاشی و تزئین کے متعلق ٹھیکہ داروں کا کہنا ہے کہ محکمہ کے عہدیداروں کے سبب اس کی ایک وقت میں مکمل آہک پاشی ممکن نہیں ہوپاتی اور کئی مرتبہ عہدیداروں کی جانب سے کئے جانے والے مطالبات کے سبب عمارت کی تزئین و حفاظت کے کام جوں کے توں رہ جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق دواخانہ کی مرکزی عمارت کی چھت اور دیواروں کی حالت بھی آئے دن خستہ ہوتی جا رہی ہیں اور اس خستہ حالی کوفوری دور نہ کئے جانے کی صورت میں اس عمارت کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔