مشترکہ دارالحکومت میںامن و قانون کی صورتحال پر گورنر کی نگرانی قبول کرنے سے چیف منسٹر تلنگانہ کا انکار‘ پارلیمنٹ میں بھی مخالفت کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ 7 ۔جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ اور آندھراپردیش ریاستوں کے قیام کے بعد دونوں ریاستوں کے چیف منسٹرس کے درمیان مختلف امور میں برتری کیلئے مسابقت کا آغاز ہوچکا ہے ۔ دونوں ریاستوں کیلئے زائد فنڈس کے حصول اور دیگر معاملات میں آندھراپردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کو تلنگانہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ پر سبقت حاصل ہے چونکہ تلگو دیشم پارٹی مرکز میں برسر اقتدار این ڈی اے کی حلیف جماعت ہے لہذا چندرا بابو نائیڈو اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مرکز سے اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب دکھائی دے رہے ہیں۔ حیدرآباد میں امن و ضبط کی صورتحال کے مسئلہ پر گورنر کے اختیارات میں اضافہ اور ضلع کھمم کے 7 منڈلوں کے آندھراپردیش میں انضمام کے سلسلے میں چندرا بابو نائیڈو کی حکمت عملی کامیاب ہوئی جبکہ چندر شیکھر راؤ ان دونوں مسائل پر مرکز سے مثبت ردعمل حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ریاست آندھراپردیش کی تقسیم کے سلسلہ میں پارلیمنٹ میں منظورہ بل کے مطابق حیدرآباد 10 برسوں تک دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت رہے گا۔ لہذا مرکز نے حیدرآباد میں امن و ضبط کی صورتحال اور دیگر اہم امور میں گورنر کو زائد اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ حیدرآباد میں قیام کرنے والے سیما آندھرائی افراد کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ مرکز کی جانب سے گورنر کو زائد اختیارات تفویض کرتے ہوئے ایک سرکولر تلنگانہ حکومت کو جاری کیا گیا جس میں زائد اختیارات کی وضاحت کی گئی۔ مرکز کے فیصلہ کے مطابق مشترکہ دارالحکومت کے حدود میں امن و ضبط سے مطابق کسی بھی مسئلہ پر گورنر کا فیصلہ قطعی ہوگا، تاہم فیصلہ سے قبل گورنر حکومت سے مشاورت کرسکتے ہیں۔ تاہم وہ حکومت کی رائے قبول کرنے کے پابند نہیں ہوں گے۔ آندھراپردیش کے چیف منسٹر چندرا بابونائیڈو نے گورنر کے زائد اختیارات کے سلسلہ میں مرکز سے نمائندگی کی تھی ۔ انہوں نے مرکز کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے خواہش کی تھی کہ امن و ضبط کی صورتحال ، پولیس کمشنرس کے تقررات اور پولیس عہدیداروں کے تبادلوں جیسے معاملات میں گورنر کو مکمل اختیارات دیئے جائیں۔ حیدرآباد میں بسنے والے سیما آندھرائی عوام کے جن و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے زائد اختیارات کی مانگ کی گئی ۔ چندرا بابو نائیڈو نے اس سلسلہ میں وزیراعظم کو مکتوب روانہ کیا۔ بتایا جاتاہے کہ چندرا بابو نائیڈو کے مطالبہ کے تحت مرکز نے گورنر کو زائد اختیارات دیئے جانے کا فیصلہ کیا، جس پر تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے اس فیصلہ کی مخالفت کیلئے پارٹی ارکان پارلیمنٹ کو ہدایت دی ہے۔ مرکزی ہوم سکریٹری انیل گوسوامی کی جانب سے اس مسئلہ پر تلنگانہ حکومت کی رائے طلب کی گئی ہے۔ چیف منسٹر اس سلسلہ میں مرکز کو اپنی رائے روانہ کرتے ہوئے زائد اختیارات کی مخالفت کریں گے۔ انہوں نے پارٹی ا رکان پارلیمنٹ کو ہدایت دی کہ وہ پارلیمنٹ اجلاس کے دوران پولاورم آرڈیننس اور گورنر کے اختیارات کی مخالفت کریں۔ تلنگانہ حکومت کا کہنا ہے کہ گورنر کو زائد اختیارات سے تلنگانہ حکومت کے حقوق اور مراعات میں مرکز کی راست مداخلت ہوگی۔ چندرا بابونائیڈو نے سٹی پولیس کمشنر ، ڈپٹی کمشنران اور اسسٹنٹ کمشنران کے تقرر کا اختیار گورنر کو سونپنے کی مانگ کی۔ دوسری طرف پولاورم آرڈیننس کے مسئلہ پر بھی تلنگانہ حکومت دفاعی موقف میں آچکی ہے۔ کھمم کے 7 منڈلوں کو آندھرپردیش میں ضم کرتے ہوئے حال ہی میں جاری کردہ آرڈیننس کو قانون کی شکل دینے کیلئے مرکز نے پارلیمنٹ میں بل پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت نے اسپیکر لوک سبھا سے پولاورم آرڈیننس بل کی پیشکشی کی اجازت طلب کی ہے۔ توقع ہے کہ کل 8 جولائی کو پارلیمنٹ میں بل پیش کیا جائے گا ۔ اسی دوران ٹی آر ایس نے لوک سبھا بزنس رول 72 کے تحت نوٹس دیتے ہوئے مذکورہ بل کی مخالفت کی ہے۔ ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ ونود کمار نے دعویٰ کیا کہ ٹی آر ایس کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے مرکز بل پیش کرنے کا فیصلہ واپس لے سکتا ہے۔ دوسری طرف حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر جمہوریہ کی جانب سے بل کی منظوری میں تاخیر کے سبب پارلیمنٹ میں پیشکشی میں تاخیر ہوئی۔