حیدرآباد و رنگاریڈی میں 90فیصد وقف اراضی پر غیر مجاز قبضے

حیدرآباد۔2 ۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے حیدرآباد اور رنگا ریڈی میں سرکاری، وقف ، انڈومنٹ اور دیگر اراضیات کی تفصیلات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں چیف سکریٹری ڈاکٹر راجیو شرما نے آج تمام محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس طلب کیا جس میں ہدایت دی گئی کہ ہر محکمہ اس کے تحت اراضی کی تفصیلات سرکاری پورٹل پر شامل کردے۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں اوقافی اراضیات کے بارے میں بعض دلچسپ انکشافات منظر عام پر آئے۔ حیدرآباد میں موجود اوقافی اراضیات میں ایک گز بھی خالی نہیں جبکہ رنگا ریڈی میں کسی حد تک کھلی وقف اراضی موجود ہیں۔ دونوں اضلاع میں 90 فیصد اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضے ہیں۔ اجلاس میں پیشکئے گئے اعداد و شمار کے مطابق حیدرآباد میں 36 محکمہ جات کے تحت 6 کروڑ 85 لاکھ مربع گز اراضی موجود ہے جبکہ رنگا ریڈی میں 54 کروڑ 8 لاکھ مربع گز اراضی سرکاری محکمہ جات کے تحت ہے۔ اوقافی اراضیات کے سلسلہ میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق حیدرآباد میں 1775 ایکر اور رنگا ریڈی میں 14785 ایکر وقف اراضی موجود ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حیدرآباد میں 1469 ایکر اراضی پر ناجائز قبضے ہیں جبکہ رنگا ریڈی میں 13487 ایکر اراضی غیر مجاز قبضوں کے تحت ہے۔ حیدرآباد میں غیر مجاز قبضوں کے علاوہ جو بھی اراضی ہے وہ کھلی اراضی نہیں بلکہ مساجد ، عاشور خانے ، قبرستان اور کامپلکسوں پر محیط ہے۔ چیف سکریٹری نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اراضی سروے نمبر اور اس کے موجودہ موقف سے متعلق تفصیلات حکومت کو پیش کریں۔ اجلاس میں دیگر اقلیتی اداروں کے تحت موجود جائیدادوں اور اراضیات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وقف بورڈ کے علاوہ کسی اور ادارہ کی حیدرآباد میں اراضی موجود نہیں ہے جبکہ اردو اکیڈیمی کے تحت پرانے شہر کے خلوت علاقہ میں دیڑھ کروڑ روپئے کے صرفہ سے اردو مسکن تعمیر کیا گیا۔ یہ عمارت 23000 مربع گز پر محیط ہے۔ نامپلی میں 12 کروڑ کے صرفہ سے حج ہاؤز تعمیر کیا گیا ، اس رقم کا زیادہ تر حصہ درگاہ حضرت اسحق مدنیؒ کی آمدنی سے متعلق ہے۔ حج ہاؤز کی تعمیر میں حج کمیٹی نے 94 لاکھ 60 ہزار روپئے اپنی حصہ داری کے طور پر پیش کئے تھے۔ اگرچہ یہ اراضی وقف ہے تاہم حکومت نے اسے تعمیر کیا ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ریونیو ، پولیس اور آر اینڈ بی کے تحت زائد اراضی موجود ہے۔ بلدی نظم و نسق اور ہاؤزنگ محکمہ جات کو بھی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ پولیس کے تحت چرلہ پلی جیل ، چنچل گوڑہ جیل اور پولیس اکیڈیمی جیسے ادارے موجود ہیں۔ حکومت نے مہدی پٹنم میں واقع رعیتو بازار کو اندرون 6 ماہ ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ 3 منزلہ عصری مارکٹ کے طور پر تعمیر کی جائے گی جس میں ترکاری ، میٹ اور فش کیلئے علحدہ علحدہ سیکشن ہوں گے۔ گراؤنڈ فلور پر مارکٹ ہوگی جبکہ فرسٹ فلور پر کمرشیل کامپلکس اور سیکنڈ فلور پر گرینری اگائی جائے گی۔ کمشنر مجلس بلدیہ نے اجلاس کو بتایا کہ اس مارکٹ کو ماحولیات کے مطابق تیار کیا جائے گا تاکہ علاقہ کو صاف ستھرا رکھا جاسکے۔