حیدرآباد۔/9اگسٹ، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ کے سری ہری نے اعلان کیا کہ حیدرآباد میں لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ پر گورنر کو زائد اختیارات کے سلسلہ میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں ماہرین قانون سے مشاورت جاری ہے۔ ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ پیر کے دن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مرکز کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کریں گے اور دیگر ہم خیال جماعتوں کے ساتھ مل کر ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی جائے گی۔ ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ مرکز سے اس بات کا مطالبہ کریں گے کہ وہ گورنر کو زائد اختیارات سے متعلق ریاستی حکومت کو دی گئی ہدایات سے دستبرداری اختیار کرلے۔ سری ہری نے کہا کہ مرکز کی جانب سے فیصلہ سے دستبرداری تک احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی دیکھ کر مرکزی حکومت برداشت نہیں کرپارہی ہے اور وہ حکومت کے اختیارات کم کرتے ہوئے ریاست کو کمزور کرنے کے درپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش حکومت کے دباؤ کے تحت مرکزی حکومت اقدامات کررہی ہے جس کے خلاف عوام میں سخت برہمی پائی جاتی ہے۔ سری ہری نے بتایا کہ اس مسئلہ پر تمام ریاستوں کے چیف منسٹرس سے ملاقات کرتے ہوئے نہ صرف نمائندگی کی جائے گی بلکہ حکومت کے اختیارات سلب کرنے کے مسئلہ پر ان کی تائید حاصل کی جائے گی۔ دیگر ریاستوں کے چیف منسٹرس کے ساتھ مل کر مرکزی حکومت پر دباؤ بنانے کی کوشش کی جائے گی۔