علیحدہ ریاست کی تشکیل اور سیاسی غیر یقینی کیفیت کے خاتمہ کے بعد رئیل اسٹیٹ ڈیولپرس پر امید
حیدرآباد 21 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) تلنگانہ حکومت کی جانب سے حیدرآباد شہر کو عالمی شہر کی حیثیت سے ترقی دینے کے منصوبوں کے اعلان کے بعد رئیل اسٹیٹ ڈیولپرس کو امید ہے کہ آئندہ چھ تا آٹھ ماہ میں قیمتوں میں 40 تا 50 فیصد تک اضافہ ہوگا ۔ علیحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام اور نئی حکومت کی تشکیل کے بعد اب جبکہ سیاسی غیر یقینی کیفیت ختم ہوگئی ہے ایسے میں رئیل اسٹیٹ شعبہ کو امید ہے کہ مارکٹ کی صورتحال مثبت ہوگئی ہے ۔ کنفیڈریشن آف رئیل اسٹیٹ ڈیولپرس آف انڈیا ( CREDAI ) کے بموجب گذشتہ تین مہینوں میں حیدرآباد میں قیمتوں میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے اور اسے امید ہے کہ یہ رجحان جاری رہے گا ۔ کریڈائی کے قومی صدر سی شیکھر ریڈی نے کہا کہ موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے ہمیں امید ہے کہ آئندہ چھ تا آٹھ مہینوں میں قیمتوں میں 40 تا 50 فیصد کا اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ہونا یقینی ہے کیونکہ ان پٹ قیمتوں میں ‘ ٹیکس میں اور افراط زر میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ حیدرآباد اور پڑوسی مٹرو شہروں جیسے چینائی اور بنگلور میں کچھ بہتری پیدا ہونے کی امید ہے اور جب بہتری پیدا ہوگی اور حالات سدھریں گے تو قیمتوں میں اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں بتدریج اضافہ کے نتیجہ میں سب کو فائدہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں قیاس آرائیوں پر یقین نہیں ہے اور رئیل اسٹیٹ کے عروج کے دور میں صرف چند افراد نے دولت کمائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ عالمی معیار کے انفرا اسٹرکچر جیسے انٹرنیشنل ائرپورٹ ‘ آوٹر رنگ روڈ اور میٹرو کے ساتھ حیدرآباد عالمی معیار کے شہر کی حیثیت سے ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست میں ٹی آر ایس حکومت برانڈ حیدرآباد کو بھی بہتر بنانا چاہتی ہے اور اس نے انفارمیشن ٹکنالوجی انوسٹمنٹ ریجن کے فروغ ‘ سٹیلائیٹ ٹاؤن شپ کے قیام اور دوسرے اقدامات کیلئے ایک نیا ماسٹر پلان تیار کیا ہے ۔ کریڈائی نے اعلان کیا کہ اس کا پراپرٹی شو 29 اگسٹ سے 31 اگسٹ تک منعقد ہوگا جس میں 150 ڈیولپرس حصہ لیں گے ۔