حیدرآباد میں مور کا پَر فروخت کرنے والا آگرہ کا سنیل

عام آدمی کی خاص بات

حیدرآباد ۔ 18 ۔ جولائی : ( ابوایمل ) : تجارت یا کاروبار ایک ایسا ذریعہ معاش ہے جسے کہیں بھی اختیار کرتے ہوئے کامیاب زندگی گذارا جاسکتا ہے ۔ مگر پورے ہندوستان میں کاروبار کے لیے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ، حیدرآباد کو سب سے موزوں اور مناسب مقام تصور کیا جاتا ہے ۔ اس کی ایک بہترین مثال آگرہ سے تعلق رکھنے والا سنیل ہے جس کی عمر ابھی صرف 16 سال ہے مگر حیدرآباد اور حیدرآبادیوں کے مزاج کے بارے میں وہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ معلومات رکھتا ہے ۔ سنیل سے ہماری ملاقات آج بیگم بازار میں ہوئی جہاں وہ ملک کا قومی پرندہ ’ مور ‘ کے خوبصورت پروں کو فروخت کرتا ہوا نظر آیا ۔ اس نے بتایا کہ اس کا تعلق آگرہ سے ہے اور وہ ہر سال رمضان میں اپنے چار پانچ رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ کم از کم 4000 مور کے خوبصورت ترین پروں کو لے کر حیدرآباد آتا ہے ۔ ایک پر کی خریدی پر انہیں پانچ روپئے کی لاگت آتی ہے ۔ ٹرانسپورٹ خرچ علاوہ ہے اور وہ اسی پر کو 10 روپئے میں فروخت کردیتے ہیں ۔ حالانکہ ہم نے ایک خریدار سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ 30 روپئے میں خریدا ہے ۔ بہرحال جیسا گاہک ویسی قیمت ۔ سنیل نے ایک دلچسپ بات یہ بتائی کہ ہر بارش کے موسم میں مور کے سارے پر جھڑ جاتے ہیں اور پھر خود بخود نئے پر نکل آتے ہیں ۔ سنیل نے بتایا کہ رمضان کے مہینہ میں مور کا پر سب سے زیادہ فروخت ہوتا ہے اور یہ مسجدوں درگاہوں اور مندروں میں ہر جگہ استعمال ہوتا ہے ۔ کیوں کہ اسے امن کا پر بھی کہا جاتا ہے ۔ سنیل نے بتایا کہ رمضان اور بونال عموما ایک ساتھ آتا ہے اور یہ ان کے لیے بہترین موقع ہوتا ہے ۔ لوگ ہاتھوں ہاتھ اسے خرید لیتے ہیں ۔ سنیل کے مطابق دیگر ریاستوں کے مقابلے میں حیدرآباد کے لوگ قیمت زیادہ نہیں چکاتے ، اس لیے وہ سال بھر دیگر ریاستوں میں جتنا کماتے ہیں اتنا وہ صرف اسی ایک مہینہ میں کما لیتے ہیں ۔۔