حیدرآباد میں بادل پھٹ پڑے، طوفانی بارش، خاتون نالہ میں بہہ گئی

٭ بلدیہ کی لاپرواہی پر عوا م میں برہمی
٭ برقی سربراہی متاثر، بیشتر علاقے تاریکی میں غرق
٭ آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران مزید بارش کا امکان
٭ سردی کی لہر میں بھی اضافہ ہوگا
حیدرآباد۔/12نومبر، ( سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں آج شام اچانک طوفانی ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش کے نتیجہ میں چند گھنٹوں تک عام زندگی مفلوج ہوگئی۔ طوفانی ہواؤں اور بارش سے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے بادل پھٹ پڑا ۔گوپال پورم اُپل بس اسٹاپ کے قریب ایک حاملہ خاتون نالے میں بہہ گئی۔ ذرائع کے مطابق 26 سالہ ایم ستیہ وانی شاہ میر پیٹ علی آباد کی ساکن بتائی گئی اور وہ ستیہ راجو کی بیوی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ستیہ وانی آج اپنے بھائی گیانیندر بابو اور بہن سوگنا کے ہمراہ حیات نگر میں منعقدہ سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے بعد بذریعہ آر ٹی سی بس ریتیفائیل بس اسٹیشن سکندرآباد پہونچی تھی اور اچانک بارش کے سبب وہ قریب میں واقع ایک مقام پر بارش سے بچنے کی کوشش کے دوران نالے کی چھت پر ٹھہر گئی کہ اچانک چھت ٹوٹ گیا اور وہ نالے میں بہہ گئی۔

ستیہ وانی کا بھائی اور بہن مدد کے لئے چیخ و پکار کرنے لگے اور مقامی عوام وہاں پر جمع ہوکر اُس کی تلاش کرنے کی کوشش کی۔ بعدازاں گوپال پورم پولیس اور جی ایچ ایم سی عملہ کو اِس واقعہ کی اطلاع دی گئی جس پر ایک خصوصی ٹیم نے ستیہ وانی کی تلاش شروع کردی۔ رات دیر گئے نعش دستیاب ہوگئی۔ بارش سے پیدا صورتحال سے نمٹنے کیلئے جی ایچ ایم سی کا عملہ غائب تھا جس کی وجہ سے عوام میں کافی برہمی دیکھی گئی۔ چنتل بستی، ٹولی چوکی اور دیگر علاقوں میں عوام خود گھروں داخل ہوئے پانی کی نکاسی کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے فراہم کی گئی اطلاع کے بموجب آصف نگر منڈل میں 71.25 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ شیخ پیٹ میں 71 ملی میٹر ، ملکاجگیری میں 33.75 ملی میٹر، امیرپیٹ سری نگر کالونی میں 30.50 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ کئی نشیبی علاقے زیر آب آگئے

اور گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔ پرانا شہر کے علاوہ نئے شہر کے پاش علاقے بھی بارش کی شدت سے محفوظ نہیں رہ سکے جہاں کی سڑکیں برساتی پانی جمع ہونے کے سبب جھیل میں تبدیل ہوگئی تھیں۔ بعض مقامات پر نہ صرف موٹر سیکلیں بلکہ موٹر گاڑیاں بھی نصف سے زیادہ پانی میں ڈوب چکی تھیں۔ دیگر کئی مقامات پر موٹر سیکلس اور موٹر کارس انجن میں پانی داخل ہوجانے کے سبب ناکارہ ہوگئی تھیں۔دلسکھ نگر، سعید آباد، نلگنڈہ چوراہا، ملک پیٹ ریلوے اسٹیشن، چادر گھاٹ، پتلی باؤلی، کوٹھی، معظم جاہی مارکٹ، عابد روڈ، نامپلی، سکریٹریٹ روڈ، لکڑی کا پُل، آصف نگر، مہدی پٹنم، ٹولی چوکی، لنگر حوض کے علاوہ پرانا شہر کے علاقوں بہادر پورہ، چارمینار، مغل پورہ، چندرائن گٹہ، یاقوت پورہ، دبیر پورہ اور دیگر محلہ جات میں بارش کے سبب بعض سڑکوں پر کھڈ پڑ گئے جس سے گاڑیوں کی آمدورفت میں دشواری ہوئی۔ بارش کے دوران دونوں شہروں کے بعض علاقوں میں برقی سربراہی کا سلسلہ بھی مسدود ہوگیا جس کے نتیجہ میں شہریوں کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ اکثر محلہ جات سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے دفتر روز نامہ ’سیاست‘ سے ٹیلی فون پر ربط پیدا کرتے ہوئے شکایت کی کہ برقی سربراہ کرنے والے اداروں سے ٹیلی فون پر ربط کی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں کیونکہ ان دفاتر میں یا تو ٹیلی فون مسلسل مصروف بتائے جارہے تھے یا

پھر وہاں موجود افراد نے ٹیلی فون نہیں اٹھایا۔ اس دوران محکمہ موسمیات کے مطابق حیدرآباد کے پڑوسی اضلاع رنگاریڈی، نلگنڈہ، میدک کے بعض مقامات پر بھی بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات نے کہا کہ جنوب مغربی خلیج بنگال میں ہوا کے دباؤ میں کمی کے اثر سے گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران دونوں ریاستوں آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے کئی مقامات پر اوسط یا موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی۔ مندروں کے شہر تروپتی میں موسلا دھار بارش سے یاتریوں کی کثیر تعداد کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اچانک ہونے والی غیر متوقع بارش سے بے خبر افراد بارش سے بچنے کیلئے قریبی جگہوں پر ٹہر گئے۔ محکمہ موسمیات کی پیش قیاسی کے مطابق آندھرا پردیش میں آئندہ 48گھنٹوں کے دوران مزید بارش ہوگی۔ ذرائع نے کہا کہ بالعموم ہر موسم کی تبدیلی سے قبل اس قسم کی بارش ہوتی ہے آج شام کی بارش دراصل موسم سرما کے آغآز کا اشارہ ہے۔ اس قسم کی مزید دو تین بارشیں ہوسکتی ہیں اور بالخصوص نومبر کے دوسرے نصف سے سردی کی لہر میں بتدریج اضافہ ہوگا۔