حیدرآباد میٹرو ٹرین کی راہداریوں میں تبدیلی پر تعمیراتی کمپنی حکومت کے فیصلہ کی منتظر

چیف منسٹر کے سی آر کی مشاورت بھی اکارت ثابت ، تبدیلی راہداریوں پر سیاسی جماعتوں کا اختلاف
حیدرآباد۔22۔ڈسمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد میٹرو ریل کی راہداریوں میں تبدیلی کے تعلق سے تاحال کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ایل اینڈ ٹی اور حیدرآباد میٹرو ریل حکومت کی جانب سے راہداریوں میں تبدیلی کے تحریری احکام کے منتظر ہیں تاکہ احکام موصول ہونے کے بعد اس پر ہونے والے اضافی اخراجات و دیگر امور پر تبادلہ خیال و مشاورت کو یقینی بنایا جاسکے۔ شہر میں تیزی کے ساتھ جاری حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کی راہداریوں میں تبدیلی کے سلسلہ میں کئے جانے والے مطالبات کو میٹرو ریل عہدیدار اور ایل اینڈ ٹی کے ذمہ دار ابتداء سے ہی مسترد کرتے آئے ہیں لیکن ریاست تلنگانہ میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے میٹرو راہداریوں میں تبدیلی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی جانے لگی ہے جس سے حیدرآباد میٹرو ریل عہدیدار اور ایل اینڈ ٹی کے انجنیئرس میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ سلطان بازار میں تجارتی اداروں کے متاثر ہونے کے خدشات کے تحت تلنگانہ راشٹرا سمیتی ابتداء سے سلطان بازار سے گزرنے والی راہداری میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہی تھی اور اب جبکہ ٹی آر ایس برسر اقتدار ہے تو وہ اس مطالبہ کو سرکاری احکام کے ذریعہ پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ علاوہ ازیں اسمبلی کے روبرو گزرنے والی میٹرو ٹرین کے راستہ کو بھی تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ یہ دونوں منصوبے حکومت کی جانب سے تجویز کئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں پرانے شہر کے موجودہ حیدرآباد میٹرو ریل راہداری کو مکمل تبدیل کرنے سیاسی دباؤ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حیدرآباد میٹرو ریل کے علاوہ لارسن اینڈ ٹربو کمپنی کے ذمہ داران سے اس سلسلہ میں مشاورت بھی کی ہے اور اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ بہت جلد حکومت اپنی تجاویز تحریری طور پر حیدرآباد میٹرو ریل اور ایل اینڈ ٹی کے ذمہ داران کو روانہ کرے گی۔ حیدرآباد میٹرو ریل کے عہدیداروں کے بموجب تاحال سرکاری سطح پر کوئی تحریری احکامات موصول نہیں ہوئے ہیں جس کے سبب متنازعہ راہداریوں کے سواء دیگر راہداریوں پر تیز رفتار کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تینوں راہداریوں کی تبدیلی کی صورت میں ایل اینڈ ٹی کو 3000 کروڑ کے اضافی اخراجات عائد ہوسکتے ہیں اور ان اخراجات کی پابجائی کیلئے حکومت رضامند نہیں ہے۔ حکومت کی عدم رضامندی کے سبب ایل اینڈ ٹی نے راہداریوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا ذہن بنالیا تھا لیکن گزشتہ دنوں چیف منسٹر اور ایل ا ینڈ ٹی کے ذمہ داران کے درمیان ہوئی بات چیت کے دوران حکومت نے کچھ حد تک نقصانات برداشت کرنے اور اضافی اخراجات کی پابجائی کیلئے رضامندی ظاہر کی ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب حکومت نے ایک ہزار کروڑ تک کے اضافی اخراجات برداشت کرنے کا بالواسطہ طور پر اشارہ دیا ہے لیکن حکومت اور ایل اینڈ ٹی کے درمیان اب بھی اضافی اخراجات کے مسئلہ پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ پرانے شہر میں حیدرآباد میٹرو ریل راہداری کیلئے 1200 جائیدادوں کے متاثر ہونے کا امکان ہے اور جن علاقوں سے میٹرو ٹرین کا گزر ہوگا ، ان علاقوں کے بیشتر شہری حیدرآباد میٹرو ریل کی راہداری کو جوں کا توں برقرار رکھنے کے حق میں ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ میٹرو ٹرین راہداری میں کسی قسم کی تبدیلی ہو۔ حیدرآباد میٹرو ٹرین کی راہداریوں میں تبدیلی سیاسی نوعیت کا عمل بنتی جارہی ہے اور کانگریس اس سلسلہ میں موجودہ راہداریوں کو جوں کا توں رکھتے ہوئے حیدرآباد میٹرو ریل کے کاموں کی بروقت تکمیل کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ تلگو دیشم اور بی جے پی پرانے شہر میں موجودہ راہداری کے مطابق ہی تعمیر مکمل کرنے کے حق میں ہیں، اس کے برعکس مجلس کی جانب سے پرانے شہر سے میٹرو ٹرین کے گزرنے کے راستوں کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ حیدرآباد میٹرو ریل کے عہدیداروں کے بموجب حکومت کی جانب سے قطعی طور پر تحریری احکام موصول ہونے کے بعد ہی اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔