حیدرآباد دکن کے بٹن کا آج بھی جواب نہیں

حیدرآباد ۔ 9 ۔ جولائی : حیدرآباد دکن کو ہندوستان کی پانچ سو سے زائد دیہی ریاستوں میں کئی لحاظ سے برتری حاصل تھی سب سے پہلی برتری اسے بے حساب دولت کے اعتبار سے حاصل رہی جب کہ اس دور کے لحاظ سے عصری انفراسٹرکچر حمل و نقل کے جدید ذرائع ، بسیں ، گاڑیاں ، طیرانگاہ ، ریلویز ، ٹیلی فون خدمات شروع کرنے کے معاملہ میں بھی مملکت حیدرآباد دکن دیگر ریاستوں سے آگے تھا ۔ دولت کی ریل پیل اور شاہانہ طرز زندگی نے یہاں کے حکمرانوں سے لے کر خاص و عام کی بھی ساری دنیا میں ایک پہچان بنائی ۔ حیدرآباد دکن کے امراء اور عوام کے ذوق لباس کا بھی کوئی جواب نہیں تھا ۔ ہندوستان میں حیدرآبادی عمدہ لباس کی پہچان تھے ۔ جیسا کہ ہم نے ابتدائی سطور میں کہا ہے کہ ملک میں آنے والی ہر بیرونی اور جدید شئے پہلے حیدرآباد دکن میں آتی ایسے ہی بٹن کا استعمال بھی ہندوستان میں سب سے زیادہ حیدرآباد دکن میں ہی رہا ۔ جہاں تک بٹن کا سوال ہے آصف جاہ پنجم نواب تہنیت علی خاں بہادر افضل الدولہ کے دور میں یہاں بڑے پیمانے پر بٹن فیکٹریاں قائم کی گئیں ۔ جہاں عالمی معیار کے بٹن تیار کئے جاتے تھے ۔ خاص طور پر نواب میر محبوب علی خاں بہادر اور آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کے دور حکمرانی میں ہر محکمہ کے ملازمین کے لیے علحدہ علحدہ قسم کے بٹن ہوا کرتے تھے اسی طرح امراء و اعلیٰ عہدیداروں کے لیے بھی ان کے رتبے کے لحاظ سے بٹن تیار کئے جاتے تھے ۔

حیدرآباد دکن میں تیار کئے جانے والے گول بیضوی چوکور اور مختلف اشکال میں تیار کردہ بٹن مغربی ممالک میں بھی بہت مشہور تھے۔ یہاں کی بٹن فیکٹریوں میں تیار کردہ بٹن جرمنی میں تیار کئے جانے والے گلاس بٹن سے کہیں زیادہ معیاری ہوا کرتے تھے ۔ آصف جاہی دور کی مشہور بٹن فیکٹریوں میں دکن بٹن فیکٹری کو خاص اہمیت حاصل تھی جہاں ارکان شاہی خاندان سرکاری محکمہ جات کے ملازمین ، طلباء کے علاوہ بیرونی مہمانوں کو بطور ہدیہ پیش کرنے کے لیے خصوصی بٹن کی تیاری عمل میں آتی تھی ۔ حسینی علم میں واقع دکن بٹن فیکٹری کچھ عرصہ قبل تک بھی کام کرتی رہی لیکن آج قدیم بٹن فیکٹریاں ماضی کی یادوں میں تبدیل ہو کر رہ گئی ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دور میں بلارتھ بٹن فیکٹری ، گرتھ بٹن فیکٹری ، چوسنیا بٹن فیکٹری ، محمد یار بٹن فیکٹری اور دکن بٹن فیکٹری اپنے معیار کے لحاظ سے عالمی سطح پر اپنی ایک منفرد پہچان رکھتے تھے ۔

حیدرآبادی تاریخ پر گہرائی سے نظر رکھنے والے دانشور و مورخ جناب محمد صفی اللہ سے ہم نے بات کی ۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد دکن میں بٹن کے استعمال کے رجحان میں افضل الدولہ کے دور سے اضافہ ہوا ۔ پہلے بٹن پر سونے کی مینا کاری کی جاتی تھی بعد میں چاندی اور دیگر دھاتوں کے بٹن تیار کئے جانے لگے ۔ بٹن کے پیچھے باضابطہ فیکٹری اور علاقہ کا نام کندہ کیا جاتا تھا ۔ اس طرح چاندی ، تانبہ ، پیتل اور دیگر دھاتوں کے بٹن تیار ہونے لگے چونکہ لوگ شیروانی زیب تن کیا کرتے تھے ۔ ایسے میں عام لوگ اپنی پسند کے مطابق بٹن استعمال کرتے اور سرکاری ملازمین ایسے بٹن لگاتے جن پر ان کے متعلقہ محکمہ کا لوگو کندہ ہوتا تھا ۔ لیکن حیدرآباد کے انڈین یونین میں انضمام کے بعد شیروانی زیب تن کرنے کا رواج تقریبا ختم ہوچکا ہے ۔

صرف حیدرآبادی تہذیب کو اپنے سینے سے لگائے رکھے اور اس کی حفاظت کا بیڑا اٹھائے لوگ ہی شیروانی زیب تن کرتے ہیں جب کہ شیروانی اب شادی بیاہ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ شاہانہ مزاج رکھنے والی شخصیتیں آج بھی اعلیٰ معیاری بٹن کا انتخاب کرتے ہیں کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ انسان کے انداز گفتگو ، نشست و برخواست ، لباس ، جوتے چپلوں کے انتخاب سے اس کے ذوق اور شخصیت کا بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ واضح رہے کہ دکن بٹن فیکٹری اور دیگر فیکٹریوں میں تیار ہونے والے بٹن پر اکثر سبز سرخ گلابی اور آسمانی رنگ کے بیل بوٹے وغیرہ ہوتے اور آصف جاہی حکمرانوں کا تاج کندہ ہوتا ۔ اب بھی شہر میں ایسی شخصیتیں موجود ہیں جن کا ذوق لباس غیر معمولی ہے اور وہ بٹن کا کافی سوچ سمجھ کر انتخاب کرتے ہیں ۔ کیوں کہ بٹن بھی شخصیت میں نکھار پیدا کرتے ہیں ۔۔