حیدرآباد حلقہ پارلیمنٹ پر بی جے پی کے قبضہ کا اگزٹ پول

مقامی جماعت میں ہلچل ، نامپلی اور یاقوت پورہ اسمبلی حلقوں پر بھی تلگو دیشم اور ایم بی ٹی کی کامیابی کا امکان

حیدرآباد۔/13مئی، ( سیاست نیوز) اسمبلی اور لوک سبھا کے نتائج کیلئے اب جبکہ دو دن باقی ہیں امیدواروں کے ساتھ ساتھ عوام کی دلوں کی دھڑکن تیز ہوچکی ہے۔ تلنگانہ اور سیما آندھرا میں نئی حکومتوں کے قیام سے متعلق تجسس تو بہرحال برقرار ہے لیکن دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کی دو اسمبلی نشستوں کے نتائج کا عوام کو بے چینی سے انتظار ہے۔ خاص طور پر اقلیتی رائے دہندوں کی نظریں اسمبلی حلقہ جات یاقوت پورہ اور نامپلی کے نتائج پر ٹکی ہیں جہاں اس مرتبہ رائے دہندوں کا فیصلہ تبدیلی کے حق میں ہونے کا امکان ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ان دو اسمبلی حلقوں کے بارے میں انٹلیجنس اور میڈیا کی سروے رپورٹ نے بھی امیدواروں کی نیند اُڑادی ہے۔ ان دونوں اسمبلی حلقوں سے نمائندگی کرنے والی مقامی جماعت بھی اس موقف میں نہیں کہ وہ کامیابی کا دعویٰ کرسکے۔ ان دونوں اسمبلی حلقہ جات کے علاوہ کل سے حلقہ لوک سبھا حیدرآباد کے بارے میں ایک قومی نیوز چینل کے سروے نے ہلچل پیدا کردی ہے۔ ٹائمز ناو نیوز چینل نے اپنے ایک اگزٹ پول میں مقامی جماعت کی لوک سبھا نشستوںکی تعداد صفر بتائی ہے۔ اس طرح اس لوک سبھا حلقہ سے بی جے پی کی کامیابی کے امکانات ظاہر کئے گئے ہیں۔

اس اگزٹ پول کے نتیجہ کو لے کر لوک سبھا حیدرآباد کے رائے دہندوں کے ساتھ ساتھ امیدواروں میں تشویش پائی جاتی ہے تاہم انہیں قطعی نتیجہ کیلئے دو دن انتظار کرنا ہی پڑیگا۔ انٹلیجنس نے رائے دہی کے بعد جو اندازہ قائم کیا ہے اس کے مطابق حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں مجلس بچاؤ تحریک اور نامپلی میں تلگودیشم پارٹی کو سبقت حاصل ہے۔ اگرچہ انٹلیجنس نے کامیابی یا شکست کے بارے میں وضاحت نہیں کی تاہم کانٹے کی ٹکر کی پیش قیاسی کی ہے۔ ان دونوں حلقوں کے نتیجہ کو لے کر شہر میں سٹہ باز سرگرم ہوچکے ہیں اور بڑے پیمانے پر سٹہ لگایا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سٹہ بازوں کا رجحان بھی ان دو حلقوں کے سلسلہ میں ایم بی ٹی اور تلگودیشم کے حق میں ہے۔ مجالس مقامی کے انتخابات میں سیما آندھرا میں تلگودیشم کی زبردست لہر اور تلنگانہ کے بعض اضلاع میں تلگودیشم کے بہتر مظاہرہ کو دیکھتے ہوئے نامپلی کے نتیجہ پر تجسس میں اضافہ ہوچکا ہے۔ حیدرآباد کے علاوہ خلیجی ممالک اور امریکہ میں بھی مقیم حیدرآبادیوں کی ساری توجہ پرانے شہر کے ان دونوں اسمبلی حلقہ جات کے نتیجہ پر مرکوز ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر مذکورہ دونوں اسمبلی حلقوں میں اگر حقیقی رائے دہی ہوئی ہے تو پھر نتائج بھی حیرت انگیز ہوں گے۔