شہر کی آبادی موجودہ 94لاکھ سے 3کروڑ ہوجائے گی‘ مزید دو ایئرپورٹس کی ضرورت ہوگی: کے سی آر
حیدرآباد۔7جولائی(پی ٹی آئی) تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے آج کہا کہ انفارمیشن ٹکنالوجی سرمایہ کاری کے علاقہ کی ترقی و فروغ کے بعد حیدرآباد کو مستقبل قریب میں مزید دو ایئرپورٹس کی ضرورت ہوگی کیونکہ توقع ہے کہ اس شہر کی آبادی تین کروڑ ہوجائے گی ۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج یہاں ڈاکٹر مری چناریڈی ادارہ برائے فروغ انسانی وسائل میں’’ تلنگانہ کی دوبارہ دریافت ‘‘ کے زیر عنوان ایک ورکشاپ سے خطاب کررہے تھے ‘کہا کہ 2014ء میں حیدرآباد کی آبادی 94لاکھ ہے ‘شہر میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ میں بہت جلد 2.30 لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری ہوگی جس سے مزید دوحیدرآباد ہوںگے ۔ ( حیدرآباد کے رقبہ اور آبادی میں دو گنا اضافہ ہوگا )۔ چنانچہ ہمیں اضافی آبادی کی ضروریات کی تکمیل کیلئے شہر کے شمال اور مشرق میں مزید دو ایئرپورٹس کی ضرورت ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے 100کلومیٹر اطراف ہمیں سٹلائیٹ ٹاؤنس فروغ دینا چاہیئے تھا ۔انہوں نے کہا کہ ’’ ہمیں حیدرآباد کی گنجانی کو کم کرنا ہوگا ۔ سٹلائیٹ ٹاؤنس کو مربوط کرنے کیلئے ہمیں ایک تیز رفتار عیل نظام کی ضرورت ہے جو صرف 20منٹ میں مختلف مقامات سے حیدرآباد واپس لاسکے ۔ ہمیں ان ہی خطوط پر میٹرو ریل کو بھی فروغ دینا ہوگا ‘‘ ۔ کے سی آر نے کہا کہ موجودہ آؤٹر رنگ روڈ سے 100کلومیٹر کے فاصلہ پر مزید ایک آؤٹر رنگ روڈ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے ۔ تمام صنعتی ترقیات کو آؤٹر روڈس سے دور رکھا جانا چاہیئے ۔چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ آندھراپردیش کسی بھی شعبہ میں تلنگانہ سے کوئی مسابقت نہیں کرسکتا ۔ کے سی آر نے کہا کہ ہم گجرات ‘ ٹاملناڈو اور کرناٹک کے زمرہ میں ہیں اور آندھراپردیش ہمارے لئے قطعاً کوئی مسابقت نہیں رکھتا ۔