حکومت کے خلاف ہم ہتھیار اٹھالیں گے: علماء

مرادآباد ۔14ڈسمبر(سیاست ڈاٹ کام) یو پی کے علماء کے ایک ویڈیو میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر مسلمانوں کو ہندو بنانے کی مہم نہیں روکی گئی تو علماء چیف منسٹر اکھلیش یادو اور وزیراعظم نریندر مودی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھالیں گے ۔ضلع مراد آباد میں یو پی کے چند علماء نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان کسی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہوں گے ۔ یہ ویڈیو جس میں بتایا گیا ہے کہ علماء اپنی تقریر کے دوران چیف منسٹر اکھلیش یادو اور وزیراعظم نریندر مودی کو سنگین نتائج کی دھمکی دے رہے ہیں اور انہوں نے انتباہ دیا ہے کہ تبدیلی مذہب کے واقعات کو نہیں روکا گیا تو حکومتوں کے خلاف جنگ شروع کی جائے گی ۔ ان علماء نے آگرہ میں اس ہفتہ دو ہندو گروپوں کی جانب سے 60مسلم خاندانوں کو مبینہ طور پر ہندو بنائے جانے کا حوالہ دیا ۔

ایک عالم دین سلیم احمد نے بابری مسجد ایکشن کمیٹی کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان یہ ہرگز برداشت نہیں کریں گے کہ ان کے مذہب کو نشانہ بنایا جائے ۔ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے صدر نے کہا کہ ہم مسلمان کسی سے ڈرتے نہیں اور اپنی سلامتی کیلئے ہتھیار اٹھانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ ہم متحد ہوکر ایک مضبوط طاقت بنائیں گے ‘ ودھان سبھا اور پارلیمنٹ ہاؤز پر حملے کرنے کیلئے اپنی ایک فوج بنالیں گے تاکہ ان ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کو سبق سکھا سکیں ۔ ہم ہر قسم کے اسلحہ اور گولہ بارود کا انتظام کرلیں گے ‘ ہم میں ملک کی قسمت بدلنے کی صلاحیتیں موجود ہیں ‘ ہمیں ہتھیار اٹھانے کیلئے مجبور نہ کیا جائے ۔ چیف منسٹر یا وزیراعظم کیلئے یہ ٹھیک نہیں ہوگا کہ وہ تبدیلی مذہب کے واقعات پر خاموشی اختیار کریں۔ تبدیلی مذہب کو فوری روک دینا چاہیئے کیونکہ یہ ملک کے مستقبل کیلئے ٹھیک نہیں ہے ۔

ان علماء نے بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے جلسہ میں شریک زائد از 1500افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو متحد ہوکر دشمن طاقتوں کے خلاف مضبوطی سے جمع رہنا چاہیئے ۔ اس جلسہ میں سینئر پولیس عہدیداروں اور ضلع نظم و نسق کے عہدیدار بھی موجود تھے ۔ گذشتہ ہفتہ 60مسلم خاندانوں کو آگرہ کی وید نگر میں ایک تقریب کے دوران ہندو مذہب قبول کروایا گیا تھا ‘ جب کہ ان مسلم خاندانوں نے بعد اذاں دعویٰ کیا کہ انہیں بیوقوف بنایا گیا ۔ بجرنگ دل اور دھرم جاگرن سمیتی نے راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ کی ایماء پر یہ کارروائی کی ہے ۔ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا ہے ۔ مراد آباد کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس لیوکمار میڈیا کو بتایا کہ ہمیں بعض علماء کی تقریر کے بارے میں اخبارات سے معلوم ہوا ہے ۔ اس طرح کی قابل اعتراض تقریر کی گئی ہے ۔ مقامی انٹیلجنس یونٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس معاملہ کی تحقیقات کرے‘ رپورٹ ملنے کے بعد ہی ہم کارروائی کریں گے ۔