نئی دہلی۔ 27 اگست (سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی حکومت نے جس نے اقتدار میں اپنے 100 دن پورے کرلئے ہیں، این ڈی اے حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھنے جاری ہے۔ وزیراعظم نے سرکاری پالیسیوں کو منجمد یا مفلوج ہونے سے بچانے کے لئے بیورو کریٹس کو متحرک کردیا ہے۔ این ڈی اے حکومت کے فیصلوں میں سے ایک اہم فیصلہ یہ ہے کہ وہ سرکاری پالیسیوں کو کارگر بنانے کے لئے بیورو کریٹس سے رجوع ہوگی۔ مرکزی حکومت کے عہدیدار اب ٹھیک صبح 9 بجے نئی دہلی کے شاستری بھون پہونچ جاتے ہیں۔ اب یہاں نوکری پر تاخیر سے پہونچنے کا چلن قصّۂ پارینہ بھی چکا ہے، خاص کر اس وقت جب ان کے پاس کسی بھی وقت ان کی جانچ کرسکتا ہے۔ اپنے وزارت کا جائزہ لینے کے فوری بعد وزیر پارلیمانی اُمور اور شہری ترقی وینکیانائیڈو نے سرکاری ملازمین کی کارکردگی کا سختی سے جائزہ لینا شروع کیا ہے۔ انہوں نے بیورو کریٹس پر سخ، نظر رکھی ہے اور دفتر کو تاخیر سے آنے والے تقریباً 80 عہدیداروں کو سرزنش بھی کی ہے۔ وزارتوں کے اندر اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ سرکاری کاموں کو تیزی سے نمٹا جائے۔ انہوں نے دھول میں پڑی ہوئی فائیلوں کی صاف صفائی کے ساتھ ان کی یکسوئی پر دھیان دیا جارہا ہے لیکن وزیراعظم کا پیام ان بنیادی اصولوں سے ہٹ کر ہے، وہ چاہتے ہیں کہ بیورو کریٹس کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ نئی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ، بیورو کریٹس مکمل اخیتارات دینا چاہتی ہے۔ اس خصوص میں پہلا قدم اٹھاتے ہوئے وزیراعظم نے تمام اعلیٰ بیورو کریٹس کا اجلاس طلب کیا اور کہا کہ انہیں ان کا (مودی) مکمل تعاون حاصل ہوگا۔ نریندر مودی نے عہدیدار کو اپنا فون نمبر دیا ہے تاکہ وہ ان سے راست طور پر ربط پیدا کرسکیں۔ وزراء کے شخصی عملہ کا تقرر بھی وزیراعظم کے دفتر کے ذریعہ عمل میں آرہا ہے۔ جن عہدیداروں نے یو پی اے حکومت میں خدمت انجام دی ہے، انہیں موجودہ حکومت کے وزراء کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اپنے پرسنل سیکریٹری کیلئے بھی یو پی اے حکومت کے عہدیدار کا انتخاب نہیں کیا ہے۔