حکومت کی مبہم اور کمزور خارجہ پالیسی : کانگریس

نئی دہلی ؍ سرینگر ۔ 18 اگست ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )پاکستان کے ساتھ معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت منسوخ کرنے حکومت کے فیصلے کو کانگریس نے آج مسترد کردیا اور اسے ایک کمزور ڈپلومیسی کا نتیجہ قرار دیا۔ دوسری طرف بی جے پی نے حکومت کے فیصلے کو جرأت مندانہ قرار دیتے ہوئے مدافعت کی جبکہ کشمیری علحدگی پسندوں اور پی ڈی پی نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ نریندر مودی حکومت پر کانگریس نے غیرشفاف اور مبہم خارجہ پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا اور کہاکہ پاکستان کے ساتھ نمٹنے کے معاملے میں وہ الجھن کا شکار ہے ۔ کانگریس لیڈر منیش تیواری نے کہاکہ کمزور ڈپلومیسی سے یہ صاف ظاہر ہوگیا ہے کہ پاکستان کے بارے میں کوئی واضح پالیسی نہیں ہے ۔ کانگریس ترجمان آنند شرما نے پاکستان کی مسلسل اشتعال انگیزی کے باوجود پہلے مذاکرات سے اتفاق کرنے کے بارے میں وزیراعظم سے استفسار کیا۔ انھوں نے حکومت کے اقدام کو محض ایک دکھاوا قرار دیا ۔ انھوں نے کہاکہ آخر نریندر مودی حکومت نے معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت منعقد کرنے کا فیصلہ ہی کیوں کیا تھا جبکہ پاکستان کی طرف سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مذاکرات کافی پہلے معطل ہوچکے تھے ، آخر انھیں بحال کیوں کیا گیا تھا ؟ ہندوستان مذاکرات کی میز پر آنے کیلئے تیار کیوں ہوا ؟ ۔ انھوں نے کہاکہ حکومت نے خارجی اُمور میں انتہائی کمزور پالیسی اختیار کی ہے ۔ ایک اور کانگریسی لیڈر منی شنکر ایئر نے حکومت کے فیصلے کو بچکانہ قرار دیا اور کہا کہ اب ہند ۔ پاک مذاکرات کا احیاء مشکل ہے ۔ بی جے پی کے قومی سکریٹری شری کانت شرما نے حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ بہتر روابط کا خواہاں ہے لیکن وہ داخلی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے سکتا۔ صدر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ( پی ڈی پی ) محبوبہ مفتی نے کہا کہ تازہ پیشرفت انتہائی منفی رہی اور نریندر مودی نے تقریب حلف برداری میں وزیراعظم نواز شریف کو مدعو کرتے ہوئے مصالحت کا جو ماحول تیار کیا تھا اُس پر منفی اثر پڑا ہے ۔ علحدگی پسند حریت کانفرنس نے بھی حکومت کے فیصلے پر تعجب کا اظہار کیا ۔