ہجومی تشدد کی مذمت ، صدر ایس آئی او کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔18جولائی(سیاست نیوز) اسٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن ( ایس آئی او)تلنگانہ نے اپنے مجوزہ یوتھ کوئیک2018پروگرام سے قبل ضلعی سطح پر ریاست میںمرکزی اورریاستی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف شعور بیداری مہم چلانے کا اعلان کیا۔آج یہاںحیدرآباد میںمیڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ایس آئی او تلنگانہ جناب لئیق احمد خان نے کہاکہ مسلم تحفظات کے معاملے میںحکومت تلنگانہ نے اپنی پوری سنجیدگی دیکھائی تاہم قانونی پیچیدگیوں کا مطالعہ کئے بغیر ایوان اسمبلی میںبل کو منظور کروانے کے بعدمرکز سے مسلم تحفظات کی امید لگائی گئی ہے۔ انہو ںنے کہاکہ پچاس فیصد سے زائد تحفظات غیر دستوری عمل ہوتا ہے مگر ہمارے لئے تاملناڈو ایک مثال ہے جہاں پر پچاس فیصد سے زائد تحفظات فراہم کئے گئے ہیں۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ تلنگانہ میںبھی پسماندگی کاشکار طبقات کی آبادی کاتناسب 90فیصد سے زائد ہے اور یہاں پر بھی پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات کوٹہ میںاضافہ کی گنجائش پیدا کی جاسکتی تھی۔ انہو ںنے کہاکہ مذہب کے بجائے پسماندگی کی بنیاد پر سنجیدگی سے مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کی کوشش ضرور کامیاب ہوگی۔ انہوں نے اس موقع پر مختلف کمیٹیوں او رکمیشنو ں کا بھی حوالہ دیا جن کی رپورٹ مسلمانوں کی معاشی او رسماجی پسماندگی کی طرف واضح اشارہ کرتی ہیں۔ایس آئی او تلنگانہ یونٹ کے صدر نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات پر بھی شدید افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ حالیہ دنوں میںبیدر کے علاقے میںایک نوجوان کو ہجوم نے بے رحمی کے ساتھ قتل کردیا مگر ریاستی انتظامیہ اس واقعہ کو ہجومی تشدد قراردینے سے صاف انکار کررہا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر ایسے واقعات پر کوئی جوبداہی نہیں ہوتی ہے تو تشدد برپا کرنے والوں کے حوصلوں میںاس سے اضافہ ہوگا۔اس موقع پر یوتھ کوئیک2018کے کنونیرصہیب احمد خان‘ تلنگانہ اسٹیٹ سکریٹری ایس آئی او کلیم احمد خان اور جوائنٹ سکریٹری ابراہیم سعید بھی موجود تھے ۔