حکومت کی سردمہری اور بی جے پی کے احتجاج کے درمیان ٹیپو جینتی تقاریب

بنگلور کی مرکزی تقریب فلاپ شو ، چیف منسٹر کمارا سوامی اور ڈپٹی چیف منسٹر پرمیشور کی عدم شرکت

بنگلورو۔ 10 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کرناٹک میں آج بی جے پی اور دائیں بازو کی تنظیموں کے احتجاج کے دوران ٹیپو جینتی تقاریب منائی گئیں۔ اس موقع پر چیف منسٹر ایچ ڈی کمارا سوامی اور ان کے نائب موجود نہیں تھے۔ 18 ویں صدی کے ریاست میسور کے متنازعہ حکمراں ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش کرناٹک میں ٹیپو جینتی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بی جے پی اور دیگر تنظیموں کے احتجاج کی دھمکیوں کے پیش نظر ریاست بھر میں تقاریب سخت ترین سکیورٹی انتظامات میں منائی گئیں۔ بنگلورو میں منعقدہ سب سے بڑی تقریب میں جوش و خروش کا فقدان دیکھا گیا۔ چیف منسٹر کمارا سوامی کی قیادت میں ڈپٹی چیف منسٹر بی پرمیشورا، ودھان سودھا میں منعقدہ مرکزی تقریب کا افتتاح کرنے والے تھے لیکن انہوں نے بھی اس میں شرکت نہیں کی۔ کمارا سوامی تین دن یعنی11 نومبر تک آرام کرنے کیلئے ڈاکٹروں کے مشورہ کو اصل وجہ بتاتے ہوئے ٹیپو جینتی تقاریب میں شرکت نہیں کی۔ ان کے دفتر نے ان تقاریب میں عدم شرکت کا پہلے ہی اعلان کردیا تھا۔ چنانچہ دعوت نامہ پر بھی ان کا نام طبع نہیں کیا گیا تھا۔ پرمیشورا بھی شہر سے باہر رہنے کے سبب ان تقاریب میں شرکت نہیں کریں گے۔ اس تقریب سے دُور چیف منسٹر کے فیصلے کے بعد ٹیپو جینتی کے انعقاد پر حکمراں اتحاد کے طبقوں میں اختلافات کی خبریں بھی منظر عام ٖ پر آئی ہیں۔ واضح رہے کہ کمارا سوامی اپوزیشن میں رہتے ہوئے ان تقاریب کے انعقاد کی ضرورت پر سوال اُٹھایا تھا۔ سابق چیف منسٹر سدا رامیا کی زیرقیادت کانگریس حکومت نے ان تقاریب کا آغاز کیا تھا۔ باور کیا جاتا ہے کہ کمارا سوامی نے اپنے طاقتور گڑھ سمجھے جانے والے قدیم میسور کے علاقہ میں اپنے ووٹروں کی مخالفت سے بچنے کیلئے ان تقاریب سے دور رہنے کا فیصلہ کیا تھا، کیونکہ ٹیپوسلطان نے میسور کے راجہ سے اقتدار چھین لیا تھا جس کا وہ (میسور کے افراد) احترام کرتے ہیں، تاہم چیف منسٹر کے دفتر (سی ایم او) سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس (غیاث کو) خصوصی معنی و مطلب دینا غیرضروری ہے۔ یہ بھی بعید از حقیقت ہے کہ انہوں نے اقتدار سے محرومی کے اندیشے کے خوف سے شرکت نہیں کی ہے۔