نئی دہلی 14 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آج مرکز کی نریندر مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے راہول گاندھی کے تعلق سے سیاسی جاسوسی کروائی ہے ۔ پارٹی نے ادعا کیا کہ راہول گاندھی کے اسٹاف نے دہلی پولیس کے ایک عہدیدار کو راہول کے تعلق سے غیر ضروری اور عجیب سوالات کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔ یہ اعلان کرتے ہوئے کہ راہول کی جاسوسی اور نگرانی کے مسئلہ کو پارلیمنٹ میں موضوع بحث بنایا جائے گا۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ وزیر داخلہ اور وزیراعظم سے کم کسی سے بھی وضاحت قبول نہیں کی جائے گی اور یہ وضاحت بہت جامع ہونی چاہئے۔ پارٹی نے دہلی پولیس کے اس ادعا کو مسترد کردیا کہ یہ جاسوسی اور سوالات در اصل معمول کی سکیوریٹی کا حصہ تھے ۔ گزشتہ ماہ کے اواخر پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے آغاز سے راہول گاندھی چھٹی منا رہے ہیں۔
دہلی پولیس کی جانب سے راہول کے دفتر سے ان کے تعلق سے سوالات اور ان کے حلیہ سے متعلق استفسار کا مسئلہ اخبارات میں موضوع بحث بننے کے بعد پارٹی ترجمان ابھیشک سنگھوی نے کہا کہ اس طرح کی جاسوسی کا عمل پہلے گجرات میں بھی کیا گیا تھا۔ سنگھوی نے کہا کہ اس طرح کی سیاسی جاسوسی ‘ خفیہ نگرانی اور سیاسی مخالفین کی زندگی میں اس طرح کی در اندازی ہوسکتا ہے کہ گجرات ماڈل ہو ۔ یہ ہندوستان کا ماڈل نہیں ہوسکتا ۔ ریکارڈز کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ اس ماڈل پر گجرات میں اچھی محنت کی گئی تھی، خاص طور پر سیاسی مخالفین ‘ ججس ‘ صحافیوں اور خانگی افراد کی جاسوسی بھی کی گئی تھی ۔ سنگھوی نے کہا کہ اس جاسوسی کیلئے ہم حکومت پر الزام عائد کر رہے ہیں۔ ’’ہم اس کی مذمت کررہے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ جاسوسی صرف کانگریس یا راہول گاندھی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ تمام سیاسی مخالفین کے تعلق سے عمومی رویہ ہے ۔
کانگریس ترجمان نے کہا کہ چند دن قبل دہلی پولیس ہیڈ کوارٹرس کے ایک اے ایس آئی شمشیر سنگھ کو راہول گاندھی کی جاسوسی کرتا ہوا پایا گیا ۔ وہ راہول کی قیامگاہ کے اطراف و اکناف گھومتے ہوئے ان کے تعلق سے غیر ضروری اور عجیب معلومات حاصل کرنا چاہتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس پولیس اہلکار کا تعلق تغلق روڈ پولیس اسٹیشن سے نہیں تھا جس کے حدود میں راہول کا گھر آتا ہے ۔دہلی پولیس کا معمول کے سکیورٹی جائزہ کا جواز مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس کو اپنے سیاسی آقاؤں کے احکام پر عمل کرنے سے زیادہ اور بھی کرنے کے کام ہیں۔ اسے ایک سنگین قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے سنگھوی نے گجرات میں جب نریندر مودی چیف منسٹر تھے مبینہ فون ٹیپنگ اور جاسوسی کے واقعات کی سمت توجہ مبذول کروائی اور کہا کہ یہ سارا کچھ تمام سیاسی جماعتوں کے خلاف ہوا تھا ۔