پیرس /10 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایک ایسے وقت جب کہ ہندوستان میں دائیں بازو کی تنظیموں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ان کی حکومت تمام مذاہب کے پیرو شہریوں کے حقوق کا دفاع کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ ہم ہر شہری کے تشخص کا دفاع کریں گے، اس کی شہریت کو یقینی بنائیں گے، چاہے اس کا عقیدہ، تمدن اور نسل کچھ بھی ہو، ہمارے معاشرہ میں اس کو مساوی مقام حاصل ہوگا۔ مستقبل میں اس کا برابر کا حصہ ہوگا اور ہم پورے اعتماد کے ساتھ اس پر عمل کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ تمدن تنازعات کا دنیا کے کئی علاقوں میں ایک ذریعہ ہے۔ مودی نے کہا کہ تمدن کو باہم مربوط کرنا چاہئے، منتشر نہیں۔ اس کو عظیم تر احترام اور عوام کے درمیان عظیم تر مفاہمت کا پل ہونا چاہئے۔ ہم اپنے تمدن کو گہرا، روایتی اور مذہبی بنائیں گے، تاکہ انتہا پسندی کی اٹھتی ہوئی موج کا مقابلہ کرسکیں۔ تشدد اور انتشار پوری دنیا میں اسی لہر کی وجہ سے پھیلا ہوا ہے۔ مودی حکومت پر اپوزیشن پارٹیاں اور بعض اقلیتی برادری کے گروپس تنقید کرتے ہیں کہ حکومت گھرواپسی (تبدیلی مذہب) پروگرام پر قابو پانے کے قابل نہیں ہے۔ یہ پروگرام آر ایس ایس کی حمایت یافتہ گروپس کی جانب سے چلایا جا رہا ہے۔ تبدیلی ماحولیات کو ایک زبردست عالمی چیلنج قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے جو کل رات دیر گئے یہاں پہنچے، کہا کہ ان کی حکومت کے پاس اہداف کا ایک مجموعہ ہے
۔ ایک لاکھ 75 ہزار میگاواٹس قابل تجدید توانائی آئندہ 7 سال میں پیدا کی جائے گی۔ مودی نے کہا کہ ہندوستان کے دستور کی بنیاد امن اور ہر ایک کے لئے خوشحالی کے بنیادی اصولوں پر ہے۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی طاقت کا تخمینہ ہر شہری کے ہاتھوں میں ہوتا ہے اور حقیقی ترقی کی پیمائش کمزور ترین افراد کو بااختیار بنانے سے ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے ایک عصری مملکت ایک قدیم سرزمین پر قائم کی ہے، جو کھلے پن اور بقائے باہم کی سدا بہار روایت کے ساتھ ہے، ایک ایسا معاشرہ جو غیر معمولی تنوع رکھتا ہے۔ نریندر مودی نے این آر آئز کے پرہجوم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت ایک سال قبل انھوں نے اپنا عہدہ سنبھالا ہے، اسی وقت سے ان کا یہ مقصد ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمدن کو باہم مربوط کرنا چاہئے، منتشر نہیں۔ ہماری دنیا کو مختلف لوگوں کے درمیان ایک عظیم تر احترام اور مفاہمت کا ایک پل ہونا چاہئے۔ وزیر اعظم نے ان اقدامات کا خاکہ پیش کیا، جو ان کی حکومت نے ملک کی ترقی کے لئے کئے ہیں اور کہا کہ ترقی کی پیمائش صرف ترقی کے اعداد و شمار سے نہیں ہوتی، جو سرد خانہ سے باہر نکالے جاتے ہیں، بلکہ یہ عقیدہ کی حرارت اور درخشانی سے ہوتی ہے۔ انسانی چہروں پر نظر آنے والے امید کی روشنی سے ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہندوستانی دستور امن اور خوشحالی کے بنیادی اصولوں پر قائم ہے، جو ہر فرد کی فلاح و بہبود چاہتے ہیں، انھیں منتشر کرنا نہیں چاہتے۔ اس اجتماع سے خطاب کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے آج فرانسیسی تاجر برادری سے بھی ملاقات کی، جس کا مقصد فرانسیسی سرمایہ کاری اور ٹکنالوجیوں کو ہندوستان منتقل کرنا تھا۔ خاص طورپر انفراسٹرکچر اور دفاع کے شعبوں میں یہ منتقلی کروانا ہے۔ مودی فرانس کے چار روزہ دورے پر ہیں۔ ان کی آمد پر لیس اِنوالیڈس پر روایتی خیرمقدم کیا گیا۔ یہ ساتویں صدی عیسوی کا ایک صحن ہے۔ تقریب کے بعد وزیر اعظم نے تجارت کے شعبہ کے فرانسیسی سی ای اوز خاص طورپر انفراسٹرکچر اور دفاع کے شعبوں کے سی ای اوز سے ملاقات کی۔ توقع ہیکہ عرصہ سے زیرالتواء رافیل جنگی طیاروں کا معاہدہ طئے پا جائے گا۔