صدرنشین مہاراشٹرا اقلیتی کمیشن جناب مناف حکیم کا دورہ عمارات حج ہاؤز، مختلف اداروں کے عہدیداروں سے ملاقات
حیدرآباد۔/23اگسٹ، ( سیاست نیوز) صدر نشین مہاراشٹرا اسٹیٹ اقلیتی کمیشن جناب مناف حکیم نے تلنگانہ میں سرکاری اقلیتی اداروں کی کارکردگی کو اطمینان بخش اور دیگر ریاستوں کیلئے قابل تقلید قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے اقلیتی ادارے اقلیتوں کی تعلیمی و معاشی ترقی میں اہم رول ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ میں اقلیتوں کی بھلائی کے سلسلہ میں موجود اسکیمات کی ستائش کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تلنگانہ دورہ کے تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر حکومت مہاراشٹرا کو رپورٹ پیش کریں گے۔ جناب مناف حکیم نے آج حج ہاوز پہنچ کر مختلف اقلیتی اداروں کا دورہ کیا اور ان اداروں کے ذمہ داروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے کمشنر اقلیتی بہبود و اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب جلال الدین اکبر ( آئی ایف ایس ) اور پروفیسر ایس اے شکور منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن سے تلنگانہ میں اقلیتوں کی اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے اردو اکیڈیمی کی کارکردگی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ فروغ اردو کے سلسلہ میں وہ اکیڈیمی کی خدمات سے متاثر ہوئے ہیں۔ اردو مدارس میں انفراسٹرکچر کی فراہمی، شعراء و ادیبوں اور صحافیوں کی امداد کے علاوہ نادر اردو کتابوں کی اشاعت جیسی اسکیمات کی جناب مناف حکیم نے ستائش کی۔ انہوں نے بتایا کہ مہاراشٹرا اردو زبان بولنے والوں کے اعتبار سے دیگر ریاستوں سے آگے ہے اور حکومت اور خانگی شعبہ میں کئی اردو میڈیم مدارس بہتر نتائج کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اردو میڈیم مدارس میں طلبہ کی کوئی کمی نہیں، اس کے برخلاف حکومت اور نیم سرکاری سطح پر چلنے والے مراٹھی میڈیم کے مدارس کو طلبہ کی قلت کا سامنا ہے جس کے باعث وہ مدارس مراٹھی سے انگلش میڈیم کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اردو زبان کی ترقی و ترویج کیلئے آئندہ 50 برسوں کو پیش نظر رکھ کر منصوبہ بندی کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے بتایاکہ مہاراشٹرا میں کئی خانگی اقلیتی اداروں کی جانب سے مختلف تعلیمی مدارس اور کالجس کا جال بچھایا گیا ہے۔ جناب مناف حکیم نے تلنگانہ میں اقلیتی بہبود کیلئے 1000 کروڑ بجٹ، 12فیصد مسلم تحفظات، مکمل تعلیمی فیس ادائیگی اور غریب لڑکیوں کی شادی کیلئے فی کس 51ہزار روپئے امداد جیسی اسکیمات کا خیرمقدم کیا۔ سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے اردو اکیڈیمی کی سرگرمیوں سے واقف کراتے ہوئے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد تلنگانہ کے 10کے منجملہ 9اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ انہوں نے اردو اکیڈیمی کی جانب سے شائع کردہ مطبوعات اور ماہنامہ ترجمان ’ قومی زبان ‘ کی کاپیاں صدرنشین اقلیتی کمیشن کے حوالے کی۔ جناب مناف حکیم نے اقلیتی فینانس کارپوریشن اور حج کمیٹی کے دفاتر کا دورہ کرتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے دفتر وقف بورڈ پہنچ کر اسپیشل آفیسر جناب جلال الدین اکبر سے ملاقات کی۔ جناب جلال الدین اکبر نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں کئے جارہے اقدامات سے واقف کرایا اور بتایا کہ حکومت بھی اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں سنجیدہ ہے۔ انہوں نے اقلیتوں سے متعلق دیگر اسکیمات کی بھی تفصیل بیان کی۔ جناب مناف حکیم نے بتایا کہ مہاراشٹرا میں اقلیتی بہبود کا بجٹ 389کروڑ روپئے ہے جوکہ ناکافی ہے، وہ تلنگانہ بجٹ کی طرح مہاراشٹرا میں بھی اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کیلئے حکومت مہاراشٹرا سے نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مہاراشٹرا میں بھی بے شمار اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضے ہوچکے ہیں لیکن حکومت نے حالیہ عرصہ میں ناجائز قبضوں کی برخواستگی کیلئے ٹھوس اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ جناب مناف حکیم نے کہا کہ وہ دونوں ریاستوں میں اقلیتی بہبود سے متعلق اسکیمات پر عمل آوری اور بہتر تال میل کے سلسلہ میں تلنگانہ کے عہدیداروں سے ربط میں رہیں گے۔ اس موقع پر چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ عبدالحمید، جنرل منیجر اقلیتی فینانس کارپوریشن سید ولایت حسین، اسسٹنٹ جنرل منیجر ایم اے باری اور دیگر اسٹاف موجود تھے۔