حکومت تلنگانہ کو زوال یا بحران کا خطرہ!ہ

سکریٹریٹ کی منتقلی کا فیصلہ ، این ٹی آر تا کرن کمار ریڈی دور حکومتوں کے عروج و زوال
محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد ۔ 2 ۔ فروری : فلم اسٹار سے سیاستداں بننے والے آنجہانی این ٹی آر سے غیر منقسم آندھرا پردیش کے آخری چیف منسٹر مسٹر این کرن کمار ریڈی کے سیاسی بحران سے کیا چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ خوفزدہ ہیں شائد اسی لیے 150 کروڑ روپئے کے مصارف سے ایرہ گڈہ میں نیا سکریٹریٹ بنانے کے لیے بے چین ہیں ۔ آزادی کے بعد اور تشکیل آندھرا پردیش کے بعد ریاست پر حکومت کرنے والی سیاسی جماعتوں کو حکومت کے انتظامی امور کے فیصلے کرنے کے لیے نیا سکریٹریٹ اور قانون سازی کے لیے اسمبلی اور ہائی کورٹ کی نئی عمارتیں تعمیر کرنے کے لیے ایک روپیہ بھی خرچ کرنا نہیں پڑا کیوں کہ نظام کے ورثہ میں اہم اہم عمارتیں حکومت کو ملی ہیں ۔ چھٹویں نظام میر محبوب علی خاں نے 1888 میں سکریٹریٹ کی بلڈنگ تعمیر کروائی تھی اسی احاطے میں این ٹی آر نے بھی نئی عمارتیں تعمیر کروائی تھیں ۔ سکریٹریٹ تبدیل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اپوزیشن کے نشانے پر ہیں ۔ واستو کے معاملے میں تمام سیاسی قائدین یقین رکھتے ہیں ان سب میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سرفہرست ہیں ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے خوف کی وجہ کیا ہے ماضی میں جھانک کر دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ برہمانند ریڈی کانگریس کے واحد قائد تھے جو 7 سال سے زائد عرصے تک چیف منسٹر کے عہدے پر برقرار ر ہے دوسرے نمبر پر راج شیکھر ریڈی ہیں جو 5 سال سے زائد عرصے تک چیف منسٹر کے عہدے پر برقرار رہے ۔ چندرا بابو نائیڈو کو سب سے زیادہ 9 سال تک چیف منسٹر کے عہدے پر برقرار رہنے کا اعزاز ہے ۔ تلنگانہ سے کوئی بھی قائد 5 سال تک چیف منسٹر کے عہدے پر برقرار نہیں رہا ۔ کانگریس کے کئی چیف منسٹرس سال ، دو سال سے زائد عرصہ ہی عہدے پر برقرار رہے ۔ فلم اسٹار سے سیاستداں بن جانے والے بانی تلگو دیشم آنجہانی این ٹی آر کو پارٹی تشکیل دے کر 9 ماہ ہی میں اقتدار حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے ۔ مگر ان کے قابل بھروسہ ساتھی این بھاسکر راؤ نے ایک مرتبہ این ٹی آر کو اقتدار سے بیدخل کردیا تو دوسری مرتبہ این ٹی آر کے داماد چندرا بابو نائیڈو نے ان سے اقتدار چھین لیا اور 9 سال تک چیف منسٹر کے عہدے پر فائز رہے تاہم تروپتی میں ان پر نکسلائٹس نے جان لیوا حملہ کیا تھا جس میں وہ بچ تو گئے مگر اس کے بعد منعقد ہونے والے انتخابات میں شکست سے دوچار ہوگئے ۔ ہمدردی کی لہر سے فائدہ اٹھانے کی ان کی تدابیر ناکام ہوگئیں ۔ کانگریس نے بھی لگ بھگ 10 سال تک حکومت کی ۔ مگر اس کے تین چیف منسٹرس تبدیل ہوئے پہلی میعاد مکمل ہونے کے بعد دوسری میعاد کے 100 دن مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہوگئے ۔ اس کے بعد چیف منسٹر بننے والے مسٹر کے روشیا صرف 13 ماہ تک چیف منسٹر کے عہدے پر فائز رہے ۔ ان کے بعد مسٹر این کرن کمار ریڈی چیف منسٹر بنے اور ساڑھے تین سال تک عہدے پر فائز رہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کا بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظور ہونے کے بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا اور علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل پانے تک ریاست میں صدر راج نافذ رہا ۔ کئی چیف منسٹرس سکریٹریٹ کے واستو سے مطمئن نہیں تھے ۔ سکریٹریٹ تبدیل کرنا چاہتے تھے مگر ناکام رہے ۔ صرف داخل ہونے والے گیٹس کے علاوہ دوسری معمولی تبدیلیاں کرنے تک اکتفا کیا ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے فیصلے کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے زبردست تنقید کی جارہی ہے اور احتجاج کیا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ ان تنقیدوں اور احتجاج کو نظر انداز کررہے ہیں ۔ ایراگڈہ پر واقع چیسٹ ہاسپٹل کو وقار آباد منتقل کرنے کے لیے 7.5 کروڑ روپئے منظور کرچکے ہیں اور20 فروری سے نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کااعلان کرچکے ہیں ۔۔