کاشتکاروں کے لیے فلاحی اسکیمات شروع کرنے پر زور ، عام آدمی قائدین کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔15 مئی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں 844 کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ عام آدمی پارٹی قائدین مسٹر آر وینکٹ ریڈی اور پروفیسر پی ایل ویشویشور راؤ نے آج ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا کہ حکومت کسانوں کی خودکشیوں کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے سے قاصر نظر آرہی ہے۔ عام آدمی پارٹی قائدین نے بتایا کہ تاحال 844 کسانوں کی خودکشی کے واقعات منظرعام پر آچکے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کسانوںکی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات نہ کئے جانا اس بات کی دلیل ہیکہ حکومت کو کسانوں کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ پروفیسر پی ایل وشویشور راؤ نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ درحقیقت ریاست میں کسان دشمن پالیسی نافذ کئے ہوئے ہے اور کسانوں کے مسائل سے عدم دلچسپی کے اظہار کے ذریعہ انہیں نظرانداز کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک موصولہ اطلاعات کے مطابق ورنگل میں 96، رنگاریڈی میں 67، نلگنڈہ میں 100، عادل آباد میں 107، محبوب نگر میں 101، کریم نگر میں 128، نظام آباد میں 52 اور کھمم میں 38 کسانوں نے مسائل کے سبب خودکشی کرلی ہے۔ کنوینر عام آدمی پارٹی تلنگانہ ایس آر وینکٹ ریڈی نے بتایا کہ عام آدمی پارٹی کی جانب سے موافق کسان تحریک کا آغاز کرنے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عام آدمی پارٹی چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ اور ان کی حکومت سے مطالبہ کرتی ہیکہ فوری طور پر کسانوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات کا آغاز کرے اور 8 گھنٹے بلاوقفہ برقی سربراہی برائے زراعت یقینی بنائے جوکہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ عام آدمی پارٹی حکومت سے مزید مطالبہ کرتی ہیکہ حکومت فی الفور 50 ہزار روپئے قرض کسانوں کو جاری کرنے کا اعلان کرے تاکہ وہ رقم اور کھاد خرید سکے اور آئندہ پیداوار کے دنوں میں اس سے استفادہ کرسکے۔