منظورہ و مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات میں تساہلی ، انتخابات میں ٹی آر ایس کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا
حیدرآباد۔7 نومبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی شعبہ تعلیم سے لاپرواہی اور غیر ضروری شرائط کے علاوہ تقررات میں تساہلی کا تلنگانہ راشٹر سمیتی کو خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت نے اقتدار حاصل کرنے کے فوری بعد اس بات کا اعلان کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے ریاست کی تمام جامعات میں موجود مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے اقدامات کئے جائیں گے اور جلد از جلد ان مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کو یقینی بناتے ہوئے نظام تعلیم کو بہتر بنایاجائے گا۔ ریاستی سطح کی جامعات میں موجود مخلوعہ جائیدادوں کے متعلق بتایا جاتاہے کہ حکومت کی جانب سے ان مخلوعہ جائیدادو ں پر تقررات کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جس کے سبب طلبہ کے علاوہ عملہ میں بھی ناراضگی پائی جاتی ہے۔ جامعہ عثمانیہ جہاں پر 1268 منظورہ جائیدادیں موجود ہیں ان میں 768 جائیدادیں مخلوعہ ہیں اسی طرح کاکتیہ یونیورسٹی میں موجود 390 منظورہ جائیدادوں میں 250 مخلوعہ ہیں اور تلنگانہ یونیورسٹی میں 150میں 75جائیدادوں پر تقررات کئے جانا باقی ہے لیکن حکومت تلنگانہ نے اپنی معیاد کے دوران اس جانب کوئی توجہ مبذول نہیں کی اور یہ کہا جاتا رہا کہ ریاست میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔مہاتما گاندھی یونیورسٹی میں موجود150 جائیدادوں میں 124 مخلوعہ ہیں ‘ شاتا واہنا یونیورسٹی میں 120 جائیدادوں میں 100 مخلوعہ جائیدادیں ہیں جن پر تقررات کئے جانے ہیں۔پالمورو یونیورسٹی میں 84 جائیدادیں منظورہ ہیں جن میں 49جائیدادوں پر تقررات کئے جانے ہیں۔جے این ٹی یو حیدرآباد میں 409 منظورہ جائیدادوں میں 210 جائیدادوں پر تقررات کئے جانا باقی ہیں اس طرح ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں بھی جائیدادیں مخلوعہ ہیں لیکن اس سلسلہ میں تاحال کوئی پیشرفت نہیں کی گئی جس کے سبب طلبہ اور یونیورسٹی انتظامیہ کے علاوہ ان جامعات سے ملحقہ کالجس کے انتظامیہ میں بھی شدید ناراضگی پائی جاتی ہیں۔تشکیل تلنگانہ کے موقع پر حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست کی تمام جامعات میں مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کو یقینی بنانے کے اقدامات کا تیقن دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی اگر اقتدار حاصل کرتی ہے تو ریاست میں نظام تعلیم کو بہتر بنانے کیلئے فوری طور پر اساتذہ اور انتظامی عملہ کے تقررات کے لئے امتحانات کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا جس کے ذریعہ تلنگانہ کے نوجوانوں کو ملازمتیں حاصل ہوں گی اور نظام تعلیم میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی جائے گی۔