حیدرآباد /4 مارچ (سیاست نیوز) ڈپٹی فلور لیڈر تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ حکومت بجٹ سے پہلے وعدوں کے امتحان میں ناکام ہوگئی ہے۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کے صرف نام بڑے اور درشن چھوٹے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ’’آج کی تازہ خبر‘‘ کے نام پر روزانہ وعدوں کی بارش کر رہے ہیں، ٹی آر ایس اپنے دور اقتدار کے 9 ماہ مکمل کرچکی ہے، تاہم وعدوں پر عمل آوری میں پوری طرح ناکام ہے۔ انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ خود کو کسی بادشاہ سے کم نہیں محسوس کرتے، اس لئے قدیم دور میں جس طرح ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کو شاہی فرمان روانہ کرتے تھے، ہم عوام کی طرف سے کے چندر شیکھر راؤ کے نام ان کے 101 بڑے وعدوں کا فرمان روانہ کر رہے ہیں، جب کہ ان وعدوں میں صرف تین وعدے پورے کئے گئے یعنی زرعی اغراض کے چلائے جانے والے ٹریکٹرس کی ٹیکس سے استثنائی، صحافیوں کے ویلفیر فنڈ میں 10 کروڑ اور وکلاء کے ویلفیر فنڈ میں 100 کروڑ روپئے کی اجرائی، جب کہ 18 وعدوں پر جزوی عمل آوری ہوئی ہے اور 80 وعدوں پر کچھ بھی عمل نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ بحیثیت ڈپٹی فلور لیڈر ان کا ادعا ہے کہ اگر اس سے زیادہ وعدوں پر عمل آوری ہوئی ہے تو چیف منسٹر تلنگانہ اس فرمان پر ان وعدوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اسمبلی کا بجٹ سیشن شروع ہونے سے قبل عوام کے سامنے اس کی وضاحت کریں۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک میں دو ہزار نوجوانوں اور طلبہ کی زندگیوں کی قربانیوں کا ٹی آر ایس نے ایوانوں میں ادعا کیا تھا، تاہم جب ان کے ارکان خاندان کو نفع پہنچانے کا وقت آیا تو صرف 459 مجاہدین کو شامل کرکے دیگر کو فراموش کردیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ فہرست میں شامل متاثرین کے افراد خاندان کو مکان، ملازمت یا دیگر کوئی سہولت نہیں دی گئی۔ علاوہ ازیں 1969ء کے مجاہدین تلنگانہ کے بارے میں بھی اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ کسانوں کے ایک لاکھ روپئے تک کے قرضہ جات معاف کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم صرف 25 فیصد معاف کرکے پہلی قسط کے طورپر 4250 کروڑ روپئے جاری کئے گئے، ماباقی 75 فیصد قرضہ جات ادا نہیں کئے گئے۔ انھوں نے کہا کہ 8 گھنٹے برقی سربراہی کے وعدہ کے باوجود صرف 4 گھنٹے برقی سربراہ کی جا رہی ہے، جب کہ کے جی تا پی جی تعلیم صرف کاغذ تک محدود ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں
اور قبائل کو 12 فیصد تحفظات کے وعدہ کو پورا نہیں کیا گیا، جب کہ ان کے تعلیمی و سماجی موقف کا جائزہ لینے والی کمیٹیوں کی تشکیل بے فیض ہے، جو مسلمانوں اور قبائل کو گمراہ اور وقت ضائع کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہائیکورٹ کے رولنگ کے مطابق کسی بھی طبقہ کو شامل کرنے کے لئے بی سی کمیشن تشکیل دی جائے اور ریٹائرڈ جج کی خدمات سے استفادہ کرتے ہوئے کمیشن کو قانونی اختیارات دیئے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کا جامع سروے ہونے کے باوجود کمیٹیوں کی تشکیل مگرمچھ کے آنسو بہانے کے مترداف ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتوں کے لئے منظورہ بجٹ کا 25 فیصد فنڈس خرچ نہیں کئے گئے۔ علاوہ ازیں غریب عوام کے لئے دو بیڈ روم کا فلیٹ، دلت و قبائل طبقات کو 3 ایکڑ اراضی اور ہر گھر کے لئے ایک سرکاری ملازمت کے وعدوں کو بھی پورا نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ کو بدعنوانیوں سے پاک کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم ڈپٹی چیف منسٹر راجیا کو کس بدعنوانی کے تحت کابینہ سے برطرف کیا گیا، آج تک اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔