بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے خاتمہ کے لیے عوامی تعاون ضروری
حیدرآباد ۔ /12 مئی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ ریاست بالخصوص حیدرآباد میں بہتر حکمرانی اور عوام کے ذریعہ حکمرانی کے طریقہ کار کو متعارف کروانے کیلئے سرگرم منصوبہ بندی میں مصروف ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ ریاست میں بہتر حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے عوامی شراکت داری کو قابل عمل بنانے کے متعلق غور کررہے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب ریاستی حکومت کی جانب سے عوام کے ذریعہ عوامی حکمرانی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں کابینی سطح پر سرگرم مشاورت جاری ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ جاریہ ہفتہ کے دوران کسی بھی وقت حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد کے عوام کو بااختیار بنانے کے سلسلے میں کوئی قطعی فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے عوام کے اختیارات میں اضافے کے متعلق جو منصوبہ بندی کی جارہی ہے اس کا مقصد رشوت سے پاک حکمرانی کے علاوہ بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں کے خاتمہ کیلئے عوامی تعاون حاصل کرتے ہوئے عہدیداروں اور حکومت کو جواب دہ بنانا ہے ۔ ریاست آندھراپردیش میں تلگودیشم دور حکومت کے دوران اس وقت کے چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے سٹیزن چارٹر کی اجرائی کے ذریعہ عہدیداروں کو جوابدہ بنایا تھا لیکن اس کے بعد بتدریج اس چارٹر پر عمل آوری کا سلسلہ منقطع ہوگیا لیکن قومی سطح پر قانون حق آگہی ، قانون حق تعلیم اور ضمانت روزگار اسکیم کے علاوے دیگر اسکیمات کے ذریعہ برسراقتدار طبقہ نے عوام کو اختیارات حوالے کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں قومی سطح پر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔ دستور ہند کے مطابق ریاستوں کو حاصل اختیارات کے ذریعہ ریاستی حکومتیں اپنے طور پر اپنی ریاست کے عوام و رائے دہندوں کو بااختیار بنانے کا حق رکھتے ہیں اور عہدیداروں کو عوام کے آگے جوابدہ بنائے جانے کے بعد صورتحال میں تبدیلی توقع کی جاسکتی ہے ۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کے طرز حکمرانی میں دیگر ریاستوں کو عوامی منصوبہ کے تحت اقدامات اور عوام کے ذریعہ حکمرانی کی ترغیب فراہم کی ہے ، سمجھا جاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اسی طرز حکمرانی کو اختیار کرتے ہوئے عوام اور حکومت کے ساتھ ساتھ عہدیداروں میں تال میل بڑھانے کی فکر میں ہے ۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کے بموجب مسٹر کے چندر شیکھر راؤ ریاست گیر سطح پر اس منصوبے کو قابل عمل بنانے سے قبل اس کا تجربہ حیدرآباد میں کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں ۔ اس عظیم تر منصوبے کے مطابق چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ شہر کی ترقی و دیگر اقدامات و کارروائیوں میں راست عوامی رائے کے حصول پر توجہ مرکوز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ عہدیداروں کی من مانی کے خاتمہ کو یقینی بنایا جاسکے ۔ علاوہ ازیں بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں کے واقعات میں کمی لائی جاسکے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت اپنے مشیروں کے ذریعہ اس منصوبے کو قطعیت دینے کی مرحلے وار کوششوں کے بعد اب مکمل طور پر اس منصوبے کو قابل عمل بنانے کیلئے تیار ہے لیکن اس سلسلے میں بعض ضروری کارروائیوں و اجلاسوں کے انعقاد کے بعد ہی یہ فیصلہ کئے جانے کی توقع ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں تلنگانہ راشٹرسمیتی حکومت کی جانب سے اگر عوام کو بااختیار بنانے کے سلسلے میں مثبت فیصلے کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ریاست کے عوام ریاست کی ترقی میں راست طور پر اپنے تجاویز و مشورے دے سکتے ہیں اور ریاست کی ترقی کے فیصلے صرف چند لوگوں کے اختیار سے نکل کر عوامی فیصلوں کی طرح کئے جاسکیں گے ۔