حیدرآباد ۔ /7 جنوری (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی نے آج شام کل ہند صنعتی نمائش میں تلنگانہ اردو اکیڈیمی کے اسٹال کا افتتاح کیا ۔ جناب محمود علی نے کہا کہ حکومت اردو زبان کی ترقی و ترویج کے عہد کی پابند ہے اور چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ میں سرکاری دفاتر اور خانگی اداروں کے سائن بورڈس پر اردو زبان کو شامل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اردو شعراء و ادیبوں کی حوصلہ افزائی کے علاوہ ان کی کتابوں کی اشاعت کے سلسلے میں ہرممکن تعاون کیا جائے گا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ اردو حیدرآبادی تہذیب کا اٹوٹ حصہ ہے اور پہلی مرتبہ ریاستی اسمبلی اور کونسل میں اردو کی گونج سنائی دی ۔ کئی برسوں بعد اسی چیف منسٹر نے اردو میں دونوں ایوانوں سے خطاب کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی ترقی کیلئے حکومت نے ایک ہزار 30 کروڑ کا بجٹ مختص کیا ہے ۔ اس کے علاوہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے وقف بورڈ کو جوڈیشیل اختیارات دیئے جائیں گے ۔ غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کے موقع پر امداد سے متعلق شادی مبارک اسکیم کیلئے بجٹ میں 100 کروڑ مختص کئے گئے ۔ محمود علی نے کہا کہ غریبوں کیلئے 1 روپیہ فی کیلو چاول کی فراہمی کی اسکیم کا آغاز کیا گیا جو حکومت کی غریب پروری کو ثابت کرتا ہے ۔ انہوں نے اردو اکیڈیمی کی کارکردگی کی ستائش کی اور کہا کہ اس اسٹال میں اردو ادب سے متعلق کتابوں کا غیرمعمولی کلکشن رکھا گیا ہے ۔ جناب جلال الدین اکبر ڈائرکٹر اقلیتی بہبود اور سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے ڈپٹی چیف منسٹر کا خیرمقدم کیا اور اسٹال کا معائنہ کرایا ۔ اس موقعہ پر رکن قانون ساز کونسل جناب محمد سلیم اور ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین موجود تھے ۔ اردو شعراء و ادیبوں کی بڑی تعداد نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی ۔ اسٹال میں اقلیتی بہبود سے متعلق مختلف اسکیمات کی تفصیلات پر مشتمل بروچرس رکھے گئے ہیں ۔