وزراء گروپ بھی ریزرویشن کے ذریعہ فائدہ پہنچانے کے حق میں ۔ مودی حکومت درج فہرست طبقات اور قبائل کی ترقی کی پابند عہد: پاسوان
نئی دہلی ۔ 17اپریل ۔( سیاست ڈاٹ کام ) لوک جن شکتی پارٹی کے سربراہ اور خوراک سپلائی کے وزیر رام ولاس پاسوان نے آج کہا کہ حکومت ترقی میں ریزرویشن کا فائدہ پہنچانے کے حق میں ہے اور ضروری ہواتو اس کے لئے آرڈیننس بھی لائیگی۔ پاسوان نے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ وزراکے گروپ نے بھی ترقی میں ریزرویشن کے بندوبست کے حق میں اپنی رائے ظاہر کی ہے ۔وزراکے اس گروپ میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ،وزیر قانون روی شنکر پرساد، سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر تھاورچند گہلوٹ اور خود وہ شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ ترقی میں ریزرویشن کے فائدہ کی کسی نے مخالفت نہیں کی صرف سپریم کورٹ نے کچھ شرائط عائد کی ہیں جس کی وجہ سے گزشتہ کچھ عرصہ سے یہ اس نظام پر روک لگ گئی ہے ۔حکومت ایک بار پھر سپریم کورٹ میں اپنا موقف پیش کریگی اور اسکے بعد بھی صورت حال نہیں تبدیل ہوئی تو آرڈیننس لایاجائیگا۔انھوں نے کہا کہ ترقی میں ریزرویشن کی سہولت بند کئے جانے سے لوگوں میں بے چینی پھیل رہی ہے اور حکومت اس پر قابو پانا چاہتی ہے ۔
لوک جن شکتی پارٹی کے لیڈر نے کہا کہ ترقی میں ریزرویشن کے فائدے کی مخالفت سب سے پہلے سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے کیا تھا جس کے بعد تنازعہ بڑھتاگیا۔انھوں نے کہاکہ مودی حکومت درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی ترقی کے لئے ہرممکن کوشش کررہی ہے اور بابا صاحب بھیم راؤامبیڈکر کے تعلق سے اس حکومت نے جتنا کیاہے اتنا کسی حکومت نے نہیں کیا ہے۔ پاسوان نے کہا کہ اعلی عدالتوں میں بھی ریزرویشن کا نظام ہونا چاہئے اور شفاف طریقہ سے ججوں کی تقرری کے لئے انڈین جوڈیشیل سروس کی تشکیل ہونی چاہئے۔ اس سے مسابقت ہوگی اور بہتر لوگ جج کے عہدے پر فائز ہوسکیں گے اور اس میں ریزرویشن کا نظام بھی قائم ہوسکے گا۔انھوں نے کہا کہ نئے نظام سے کالجیم کے توسط سے ججوں کی تقرری کا نظام بھی ختم ہوجائیگا۔ پاسوان نے کہا کہ انکی پارٹی اعلی ذاتوں کے غریبوں کو بھی سرکاری ملازمت میں 15فیصد ریزرویشن دینے کے حق میں ہے ۔آزادی کے 70سال بعد بھی اعلی ذات کا غریب طبقہ پسماندہ ہے جسے ریزرویشن کا فائدہ پہنچاکر سماج کے مرکزی دھارے سے جوڑنے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔
مرکز آصفہ کیس کی سی بی آئی انکوائری کرانے تیار
جموں ۔ 17اپریل ۔( سیاست ڈاٹ کام ) دفتر وزیراعظم میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا کہ آصفہ عصمت دری و قتل کیس کو قومی جانچ ایجنسی سی بی آئی کے حوالے کرنے میں بی جے پی اور مرکزی حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی حکومت کہتی ہے توہم آج ہی اس کیس کو سی بی آئی کے سپرد کریں گے ۔ جتیندر سنگھ نے منگل کو یہاں ایک تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا جہاں تک ہمارا تعلق ہے کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔اگر ریاستی سرکار ہمیں آج کہتی ہے تو ہم آج ہی اس کیس کو سی بی آئی کے حوالے کریں گے ۔