حکومت بہار کو ہریانہ بھیجی جانے والی لڑکیوں کی تفصیلات مطلوب

پٹنہ8 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی لیڈر او پی دھانکر نے ہریانہ کے لڑکوں کیلئے بہار کی دلہنوں کا جو متنازعہ بیان دیا تھا۔ وہ ہر گذرنے والے دن کے ساتھ میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت بہار نے ایک حکمنامہ جاری کیا ہے جس کے تحت یہ معلوم کیا جائے گا کہ اب تک بہار سے ہریانہ کو کتنی لڑکیاں بھیجی گئی ہیں اور ان کا کیا حشر ہوا ؟ دریں اثناء انسپکٹر جنرل آف پولیس (ویکر سیکشن ) اروند پانڈے نے میڈیا کو بتایا کہ 12 اضلاع کے پولیس سپرنٹنڈنٹوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس بات کا سروے کریں کہ بہار سے اب تک کتنی لڑکیوں کو شادی کے مقصد سے ہریانہ لیجایا گیا اور ان کا کیا حشر ہوا ۔

آیا ان پر ہریانہ کے لڑکے (شوہر) ظلم و ستم کررہے ہیں یا پھر وہ اپنی شادی شدہ زندگی میں خوش ہیں وغیرہ ۔ یہ تمام تفصیلات پولیس ہیڈ کواٹرس کو اندرون ایک ماہ فراہم کی جائیں ۔ جن 12 اضلاع کا تذکرہ کیاگیا ہے ان میں مظفر نگر ، بیگوسرائے ، پورنیاء ،ساہارسا ، سیتا مڑھی،مونگیر، مغربی چمپارن ،مشرقی چمپارن، کشن گنج آراریہ ،مدھوبن اور کٹیہار شامل ہیں ۔ مسٹر پانڈے نے کہا کہ اگر اس بات کا انکشاف ہوا کہ لڑکیوں کی تجارت کی گئی ہے تو پولیس زبردست کارروائی کرے گی ۔ یاد رہے کہ دھانکر ریمارک کے بعد ریاست گیر پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ انہوں نے ہریانہ کے جنڈ ڈسٹرکٹ میں 5جولائی کو ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے متنازعہ ریمارک کیا تھا جس کے بعد احتجاج کی شدت کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت بہار کو حکمنامہ جاری کرنا پڑا ۔