حکومت انٹرنیٹ اسپیس کارپوریٹ کے حوالے کرنے کوشاں، راہول گاندھی کا الزام

نئی دہلی 22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے آج نریندر مودی حکومت پر الزام عائد کیاکہ وہ انٹرنیٹ کی جگہ بعض کارپوریٹ گروپس کے حوالے کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس الزام کو حکومت نے پرزور طور پر مسترد کردیا۔ لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے راہول گاندھی نے کہاکہ حکومت چاہتی ہے کہ صنعتکاروں میں انٹرنیٹ کی جگہ تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ جبکہ ہر ایک نوجوان کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہونی چاہئے۔ یہ حکومت انٹرنیٹ پر چند کارپوریٹس کی ہی اجارہ داری کا موقع دینا چاہتی ہے اور اسے چند کارپوریٹس کے حوالے کرنے تیار ہے۔ انھوں نے اس خصوص میں مطالبہ کیاکہ موجودہ قوانین میں ترمیم کی جائے یا ایک نیا قانون بنایا جائے۔ کانگریس اور بی جے پی ارکان نے اس مسئلہ پر لفظی تکرار کرتے ہوئے ایوان میں شوروغل برپا کردیا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کمیونکیشن کے وزیر روی شنکر پرساد نے سابق یو پی اے حکومت پر نکتہ چینی کی اور کہاکہ اسپکٹرم تخصیص اسکام میں جب حکومت ہی ملوث تھی اُنھوں نے دعویٰ کیاکہ مودی حکومت چاہتی ہے کہ انٹرنیٹ کو ملک کے تمام 125 کروڑ ہندوستانیوں کے لئے قابل استعمال بنایا جائے۔ راہول گاندھی نے صدر امریکہ بارک اوباما کی جانب سے امریکہ کی سرکردہ میگزین میں مودی پر لکھے گئے مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی تقریر کا آغاز کیا اور احساس ظاہر کیاکہ اوباما نے مودی کی تعریف کرتے ہوئے طویل تحریر لکھی ہے۔ اب تک کسی بھی امریکی صدر نے ہندوستانی وزیراعظم کے لئے اتنے شدید احساسات کا اظہار نہیں کیا۔ اس طرح کی ستائش سابق صدر امریکہ نے سابق یو ایس ایس آر (روس) کے صدر میخائیل گورباچوف کے لئے تھا جن کی قیادت میں روس کے حصے بخرے ہوگئے تھے۔ اپنے جواب میں وزیر آئی ٹی روی شنکر پرساد نے کہاکہ بی جے پی حکومت ڈیجیٹل انڈیا بنانے کا عزم رکھتی ہے اور انٹرنیٹ کو بلاامتیاز عوام کے لئے دستیاب کے قابل بنانا چاہتی ہے۔ حکومت اس پارلیمنٹ کو تیقن دینا چاہتی ہے کہ وزیراعظم ڈیجیٹل انڈیا کی بات کرتے ہیں تاکہ ملک کے 125 کروڑ عوام کے پاس انٹرنیٹ ہو۔ اس سلسلہ میں ٹرائی کی مشاورتی رپورٹ کو اہمیت نہ دینے کی خواہش کرتے ہوئے روی شنکر پرساد نے کہاکہ ریگولیٹری ادارہ حکمرانی کے قانون کے تحت کام کررہا ہے اور اس مسئلہ کا جائزہ لیا جارہا ہے لیکن یہ میرا اور حکومت کا کام ہے کہ اس مسئلہ پر قطعی فیصلہ کریں۔ کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے روی شنکر پرساد نے کہاکہ مودی حکومت نے حالیہ اسپکٹرم ہراج کے ذریعہ 1.10 کرڑ روپئے حاصل کئے ہیں۔ یو پی اے حکومت کے دوران کیا کچھ نہیں ہوا اس سے ساری دنیا واقف ہے۔ کوئلہ بلاک تخصیص میں کیا کچھ ہوا ہے کسی کے ٹوئیٹر کو اگسٹ 2012 ء میں بند کردیا گیا۔ اس پر پارلیمنٹ میں ایک دن بحث ہونی چاہئے۔ اس کے بعد کانگریس ارکان اپنی بنچوں سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور پرساد کے بیان پر احتجاج کیا۔ یہ لوگ ان سے وضاحت چاہتے تھے جس کی اجازت دینے کے لئے اسپیکر سمترا مہاجن نے انکار کردیا۔ راہول گاندھی نے اسپیکر پر زور دیا کہ 10 سیکنڈ میں ایک سوال کرنا ہے۔ پارٹی لیڈر ملکارجن کھرگے اور دیگر نے اس کی تائید کی لیکن اسپیکر نے کہاکہ وقفہ صفر کے قواعد اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ بحث یا سوالات کرنے کی اجازت دی جائے۔ اگر ارکان چاہتے ہیں تو وہ بعد میں بحث کے لئے مختصر وقفہ دیں گی۔