حیدرآباد۔/25نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی میں بہبود سے متعلق 6محکمہ جات کے مطالبات زر کو تلگودیشم اور بی جے پی کے واک آؤٹ کے دوران منظوری دے دی گئی۔ محکمہ جات اقلیتی بہبود، سماجی بھلائی، قبائیلی بہبود، بہبودی پسماندہ طبقات، بہبودی خواتین و اطفال اور ہاوزنگ سے متعلق مطالبات زر کو ڈپٹی اسپیکر پدما دیویندر ریڈی نے ندائی ووٹ سے منظوری دے دی۔ تلگودیشم اور بی جے پی ارکان نے حکومت پر کمزور طبقات اور اقلیتوں کی بھلائی کے سلسلہ میں غیر سنجیدہ ہونے اور صرف اعلانات کے ذریعہ خوش کرنے کا الزام عائد کیا۔ وزیر فینانس ای راجندر نے مباحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کمزور طبقات اور اقلیتوں کی بھلائی کیلئے نہ صرف سنجیدہ ہے بلکہ وہ عملی طور پر اپنی سنجیدگی کو ثابت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی تنقیدوں کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ وہ عوام کی توقعات کے مطابق تلنگانہ کی تعمیر نو کا عزم رکھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل تک حکومت چین سے نہیں بیٹھے گی اس کے لئے انہیں سیاسی جماعتوں سے زیادہ عوام کا تعاون چاہیئے۔ راجندر نے کہا کہ سنہرے تلنگانہ کی تعمیر اور عوام کی توقعات کے مطابق مسائل کی یکسوئی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے ان اندیشوں کو مسترد کردیا کہ آئندہ چار ماہ میں کس طرح بہبودی سے متعلق بجٹ خرچ کیا جائے گا۔ راجندر نے کہا کہ جہاں عزم اور حوصلہ ہو وہاں راستے خود بخود نکلتے ہیں۔ اسی طرح ٹی آر ایس حکومت اپنے وعدوں کی تکمیل کرے گی۔ وزیر فینانس نے اقلیتی اور ایس سی، ایس ٹی کمیشنوں کے جلد قیام کا اعلان کیا اور کہا کہ کمیشنوں کے قیام کے ذریعہ حکومت بہبودی اسکیمات پر عمل آوری کی نگرانی کرے گی۔ وزیر فینانس نے اقلیتوں اور درج فہرست اقوام و قبائیل کیلئے شروع کی گئی مختلف اسکیمات کا احاطہ کیا۔ انہوں نے تلگودیشم اور بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ جماعتیں دراصل آندھرائی قائدین کے اشارہ پر کام کررہی ہیں۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ کی مخالفت کا جو ایجنڈہ اختیار کیا ہے تلگودیشم اور بی جے پی کے تلنگانہ قائدین اسی پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ چندرا بابو نائیڈو مرکزی حکومت کے ذریعہ تلنگانہ حکومت کیلئے مسائل پیدا کررہے ہیں۔ راجندر نے بی جے پی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ مرکزی حکومت کو تلنگانہ حکومت سے تعاون کیلئے راضی کریں کیونکہ مختلف شعبوں میں مرکز کے عدم تعاون کے سبب حکومت کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 14برس تک تلنگانہ جدوجہد کے دوران ٹی آر ایس اور اس کی قیادت نے گاؤں گاؤں پہنچ کر عوام کے مسائل سے واقفیت حاصل کی اور اسی تجربہ کی بنیاد پر حکومت نے عوام دوست بجٹ تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی قائم شدہ ریاست میں نئی حکومت کے بجٹ پر تنقید کے بجائے اپوزیشن جماعتوں کو تعمیری تجاویز کے ساتھ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل میں تعاون کرنا چاہیئے۔