حکومت آندھرا پردیش کی اقلیتوں کی فلاح و بہبود کی اسکیمات میں عدم دلچسپی

صرف 246 کروڑ کے بجٹ کی منظوری ، وزیر اقلیتی بہبود رگھوناتھ ریڈی کو توجہ دہانی
حیدرآباد 18 اگست (سیاست نیوز) آندھرا پردیش حکومت کو اقلیتوں کی بھلائی اور ترقی کی اسکیمات سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ اگر چہ چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو اقلیتوں کی بھلائی کے سلسلہ میں مختلف دعوے کرتے ہیں لیکن بجٹ برائے مالیاتی سال 2014-15کی تیاری کے سلسلہ میں اقلیتی بہبود کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے حکومت کو 973 کروڑ روپئے پر مشتمل بجٹ تجاویز پیش کی تھیں لیکن محکمہ فینانس نے صرف 246 کروڑ روپئے کے بجٹ کو منظوری دی ہے۔ اس بارے میں محکمہ اقلیتی بہبود کو اطلاع دی گئی ہے جس پر اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ جناب سید عمر جلیل نے حکومت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے 246 کروڑ کے بجٹ کو انتہائی ناکافی قرار دیا ۔ اس سلسلہ میں وزیر اقلیتی بہبود پلے رگھو ناتھ ریڈی کی توجہ بھی مبذول کروائی گئی ۔ انہوں نے وزیر فینانس وائی رام کرشنوڈو سے بات چیت کرنے کا تیقن دیا ۔ تاہم اس بات کے امکانات کم ہیں کہ بجٹ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے اقلیتی بہبود کے تحت1000 کروڑ روپئے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن آندھرا پردیش حکومت کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیما آندھرا میں مقیم اقلیتی طبقات کی بھلائی سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ حالانکہ حالیہ انتخابات اور حکومت کی تشکیل کے بعد این چندرا بابو نائیڈو نے اقلیتوں کی ترقی کے سلسلہ میں کئی وعدے کئے تھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے 973 کروڑ کی تجاویز پیش کئے جانے کے بعد حکومت نے خواہش کی تھی کہ اس میں تخفیف کی جائے کیونکہ پہلے بجٹ میں اس قدر رقم مختص کرنا ممکن نہیں ۔ جس پر محکمہ اقلیتی بہبود نے 973 کے بجائے 585 کروڑ کی تجاویز پیش کیں لیکن محکمہ فینانس نے اسے گھٹا کر 246 کروڑ تک محدود کردیا ہے ۔ ابھی اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کن اسکیمات کو برقرار رکھا گیا اور کسے ختم کردیا گیا ۔ مختلف اقلیتی اداروں اور ان کی اسکیمات کیلئے علحدہ منظوری کے بارے میں بھی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ۔بتایا جاتا ہے کہ 246 کروڑ کی یہ رقم آندھرا پردیش میں فیس باز ادائیگی اور اسکالرشپ کے بقایا جات اور جاریہ تعلیمی سال کی رقم کی اجرائی کیلئے کافی نہیں ہوگی ۔ جب یہ بجٹ اسکالر شپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ کیلئے کافی نہیں تو پھر کس طرح دیگر اسکیمات پر عمل کیا جاسکتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود کی بارہا نمائندگی کے باوجود حکومت کوئی توجہ دینے سے قاصر ہے ۔ جناب سید عمر جلیل نے بجٹ میں اضافہ کے سلسلہ میں وزیر اقلیتی بہبود کو ایک تفصیلی نوٹ روانہ کیا ہے جس میں مختلف اسکیمات کیلئے درکار بجٹ کی وضاحت کرتے ہوئے 585کروڑ کو اقل ترین اور لازمی بجٹ قرار دیا اور حکومت سے خواہش کی کہ کم سے کم 585 کروڑ کی منظوری کو یقینی بنائے۔