مرکزی حکومت پر تنظیم جدید بل کی خلاف ورزی کا الزام، ٹی آر ایس ایم پی بی نرسیا گوڑ کا بیان
حیدرآباد۔/22نومبر، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی نرسیا گوڑ نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت آندھرا پردیش تنظیم جدید بل کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تلنگانہ کو اس کے جائز حقوق سے محروم کئے ہوئے ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے نرسیا گوڑ نے کہا کہ آندھرا پردیش حکومت کی ایماء پر مرکز مختلف شعبوں میں تلنگانہ کو نظرانداز کررہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حلیف جماعت ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو مخالف تلنگانہ پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ برقی، پانی اور دیگر شعبوں میں آندھرا پردیش دونوں ریاستوں کے درمیان ہوئے معاہدہ کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمس آباد ایر پورٹ کے ڈومیسٹک ٹرمنل کو این ٹی راما راؤ کے نام سے موسوم کرنا سیما آندھرائی طاقتوں کی سازش کا حصہ ہے۔ ریاست کی تقسیم کے باوجود یہ طاقتیں تلنگانہ پر اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس اور تلنگانہ عوام این ٹی راما راؤ کے نام سے ٹرمنل کو موسوم کئے جانے کے فیصلہ کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو کی ایماء پر مرکز نے یہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کے چیف منسٹر اپنی ریاست کی ترقی پر توجہ دینے کے بجائے تلنگانہ کے اُمور میں مداخلت کررہے ہیں۔ انہوں نے ڈومیسٹک ٹرمنل کو این ٹی راما راؤ کے نام سے موسوم کرنے کے خلاف اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم کیا اور مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ تلنگانہ حکومت اور عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرے۔ نرسیا گوڑ نے کہا کہ ایرپورٹ کا نام آنجہانی راجیو گاندھی کے نام سے برقرار رکھے جانے کی ریاستی حکومت تائید کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد تلنگانہ عوام سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں کے نام سے اہم مقامات کو موسوم کئے جانے کے خلاف ہیں۔ انہوں نے اس مسئلہ پر تلنگانہ تلگودیشم قائدین کے احتجاج پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ وہ تلنگانہ کے بجائے سیما آندھرا قائدین کی طرح رول ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آندھرائی طاقتوں کے اشارے پر تلنگانہ تلگودیشم قائدین این ٹی راما راؤ کے نام کی تائید کررہے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ چونکہ وزارت شہری ہوابازی کا قلمدان اشوک گجپتی راجو کے پاس ہے لہذا انہوں نے یہ فیصلہ یکطرفہ طور پر کیا ہے۔ کسی بھی اہم فیصلے کے سلسلہ میں مرکز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاستی حکومت سے مشاورت کرے۔ لیکن ایر پورٹ کے نام کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت سے کوئی مشاورت نہیںکی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیما آندھرا قائدین ریاست کی تقسیم کا بدلہ لینے کیلئے تلنگانہ میں مسائل پیدا کرنے سازش کررہے ہیں تاکہ حکومت عوامی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز نہ کرسکے۔انہوں نے کہا کہ آل انڈیا سرویسس کے عہدیداروں کی تقسیم اور سرکاری ملازمین کی تقسیم میں تاخیر کے سبب حکومت کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری اداروں کی تقسیم کا عمل بھی ابھی تک پورا نہیں کیا گیا۔