حکومت آئندہ انتخابات سے قبل تمام وعدے پورے کریگی

سونیا گاندھی ہمیں مشورہ نہ دیں ‘ کانگریس چیف منسٹروں کو سدھاریں : امیت شاہ کا خطاب
حیدرآباد 21 اگسٹ ( پی ٹی آئی ) بی جے پی نے آج کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو ان کے اس ریمارک پر نشانہ بنایا کہ بی جے پی جھوٹے وعدے کرتے ہوئے اقتدار پر آئی ہے ۔ یہاں پارٹی ورکرس سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی صدر امیت شاہ نے کہا کہ نریندر مودی حکومت ایک اور مرتبہ عوام کی تائید حاصل کرنے سے قبل عوام سے کئے گئے وعدے پورے کریگی ۔ امیت شاہ نے کہا کہ کل انہوں نے سونیا گاندھی کی تقریر دیکھی ۔ کانگریس کی صدر نے کہا کہ کچھ لوگ جھوٹے وعدے کرتے ہوئے اقتدار پر آئے ہیں۔ وہ ( امیت شاہ ) سونیا گاندھی سے کہنا چاہتے ہیں کہ ابھی بی جے پی کو اقتدار پر آئے تین ماہ بھی نہیں ہوئے ہیں۔ ہم تمام وعدے پورے کرینگے ۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ امیت شاہ نے کہا کہ این ڈی اے حکومت آئندہ مرتبہ انتخابات کا سامنا کرنے سے قبل اپنے انتخابی منشور کو پورا کریگی ۔ امیت شاہ نے کہا کہ وہ خود کانگریس صدر سے سوال کرنا چاہتے ہیں۔ یو پی اے نے کہا تھا کہ اقتدار پر آنے کے اندرون 100 دن مہنگائی پر قابو پایا جائیگا ۔ یو پی اے دس برس اقتدار پر رہی ۔ اس دوران قیمتوں پر قابو پانے کے مسائل پر کیا ہوا تھا ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو دوسروں کو مشورے دینے سے گریز کرتے ہوئے خود کا جائزہ لینا چاہئے ۔ اگر کانگریس ایسا کرنے میں ناکام رہی تو اسے عوامی برہمی کا سامنا کرنا پڑیگا ۔ کانگریس حکومت بدتر حکمرانی اور کرپشن کی علامت بن گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے موافق ترقی اقدامات کا اپنے اولین ایام ہی میں آغاز کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی ہمیں مشورہ نہ دیں بلکہ جہاں کہیں کانگریس کی حکومتیں رہ گئی ہیں انہیں مشورے دئے جائیں۔ ان حکومتوں کو چاہئے کہ وہ خود اپنی فلاح و بہبود کیلئے نہیں بلکہ عوام کیلئے کام کرسکیں بصورت دیگر عوام ان ریاستوں میں بھی کانگریس کو اقتدار سے بیدخل کردینگے ۔ پاکستان کے ساتھ بات چیت منسوخ کردینے مودی حکومت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ اس فیصلے سے یہ پیام دیا گیا ہے کہ قومی سلامتی اور خود اپنی عزت کے مسئلہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ جب دو بجے دن یہ اطلاع آئی کہ پاکستان کے ہائی کمشنر علیحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں کوئی کابینی اجلاس نہیں ہوا اور نہ سکریٹریز کی میٹنگ ہوئی ۔ مودی نے کہا کہ یہ ملک کے اتحاد اور احترام کا سوال ہے ۔ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر پاکستان علیحدگی پسندوں سے بات چیت کرنا چاہتا ہے تو ہندوستان پاکستان سے معتمدین خارجہ سطح پر بات چیت نہیں کریگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بڑے ہیں اور نہیں چاہتے کہ دوسرے ہم سے ڈریں لیکن ہم خود بھی ڈر و خوف میں نہیں رہیں گے ۔ ہم دوسروں کو اپنی عزت اور قوم کی سلامتی سے کھیلنے کا موقع نہیں دینگے ۔