حوثیوں اور صالح کی افواج میں پھوٹ کے اشارے

واشنگٹن 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے سفیر متعینہ امریکہ نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہاکہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی کی قیادت میں جو فضائی حملے کئے جارہے ہیں، وہ انتہائی کامیاب ثابت ہوئے ہیں اور اس کے نتائج توقعات سے بڑھ کر سامنے آئے ہیں۔ سعودی سفیر عادل ال زبیر نے کہاکہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران فضائی حملوں کے ذریعہ حوثیوں اور (سابق صدر علی عبداللہ صالح) کے قبضے والے فوجی انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا گیا ہے۔ واشنگٹن میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ حوثیوں اور صالح کی افواج میں بھی اب پھوٹ پڑچکی ہے اور یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ فوجی کمانڈرس اب حوثیوں کا ساتھ چھوڑ کر معمول کے مطابق یمنی فوج میں واپس آرہے ہیں۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ جیسے جیسے دباؤ میں اضافہ ہوگا

حوثی باغیوں کی طاقت کمزور ہوجائے گی کیونکہ فوجی کمانڈرس یکے بعد دیگرے یمنی فوج کی جانب راغب ہورہے ہیں۔ یہ آپریشن اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہم اپنے مقصد کو پانے میں کامیاب نہ ہوجائیں۔ کوئی بھی کام درمیان میں ادھورا نہیں چھوڑا جائے گا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ سعودی عرب اور عرب ممالک کے اتحاد نے 26 مارچ سے فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا اور یہ اقدام اُس وقت کیا گیا جب گزشتہ سال ایران کی تائید والے باغیوں نے دارالخلافہ صنعاء پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس کے بعد شیعہ باغیوں نے عدن کی جانب پیشرفت شروع کی تھی جہاں صدر منصور ہادی نے پناہ لے رکھی تھی۔ تاہم اُنھیں بھی وہاں سے تخلیہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا اور وہ سعودی عرب کے شہر ریاض پہنچ گئے تھے۔

حوثیوں نے صالح کی وفادار فوج کے ساتھ اتحاد کرلیا تھا جنھیں ایک سال کے مسلسل احتجاج کے بعد 2012 ء میں اقتدار سے بیدخل کردیا گیا تھا اور اس طرح اُن کے تیس سالہ طویل دور اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ دوسری طرف مسٹر زبیر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہاکہ سعودی فضائی حملوں میں اضافہ کے بعد حوثیوں کو ایران سے اسلحوں کی سربراہی روک دی گئی۔ اُنھوں نے ایران سے مطالبہ کیاکہ وہ یمن میں مداخلت سے باز آجائے کیونکہ دونوں ممالک کی سرحدیں الگ الگ ہیں۔ لہذا ایران کا یمن میں مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بہ الفاظ دیگر ایران کو ایک مسلک کی مدد کرتے ہوئے دوسرے مسلک کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے۔ اگر ایران پورے یمن کی عوام کی مدد کرتا ہے تو اس صورت میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یمن میں سکیوریٹی اور استحکام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔