حمایت ساگر اور عثمان ساگر سے پانی نہیں چھوڑا جائے گا

حیدرآباد ۔ 24 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : تاریخی شہر حیدرآباد کو آبی سربراہی کے لیے ایک صدی قدیم 2 آبی ذخائر عثمان ساگر اور حمایت ساگر نہ صرف ماضی بلکہ موجودہ دور کی حکومتوں کے لیے آسانیاں پیدا کررہے ہیں اور اس وقت بھی یہ آبی ذخائر کی سطح آب نہ صرف اطمینان بخش ہے بلکہ اس سے پانی کا اخراج بھی کیا جاسکتا ہے لیکن میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ ( ایچ ایم ڈبلیو ایس اینڈ ایس بی ) حکام نے کہا کہ مسطح زمین آبی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے حمایت ساگر اور عثمان ساگر سے پانی نہیں چھوڑا جائے گا ۔ بلکہ ان کے اطراف موجودہ دیہاتوں اور قریبی علاقوں کو خشک سالی سے بچایا جائے گا جیسا کہ 2014-15 کی قحط سالی کی وجہ سے یہاں آبی سطح میں شدید گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی ۔ اس ضمن میں اظہار خیال کرتے ہوئے سبکدوش انجینئر روی کانت نے کہا کہ 100 سال قبل جو آبی ذحائر حیدرآبادی عوام کی آبی ضروریات کی تکمیل کے لیے تیار کئے گئے تھے ان کا ڈیزائن اتنا موثر ہے کہ آج ایک صدی گذر جانے کے باوجود یہ حیدرآبادی کی ایک بڑی آبادی کے لیے آبی ضروریات کی تکمیل انجام دے رہے ہیں ۔ ایچ ایم ڈبلیو ایس اینڈ ایس بی کے ٹکنیکل ڈائرکٹر پی ایس ستیہ نارائن نے کہا کہ حمایت ساگر اور عثمان ساگر میں موجود آبی سطح کو برقرار رکھا جائے گا کیوں کہ انہیں باقی رکھتے ہوئے زمین کی آبی سطح کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔ چونکہ 2014-15 کی قحط سالی کا تلخ تجربہ ہنوز ذہنوں میں تازہ ہے جس کی وجہ سے یہاں کے علاقوں میں زمین میں آبی سطح میں شدید گراوٹ ہوئی تھی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑھتی آبادی کے ساتھ آبی سربراہی کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے ۔ حالیہ عرصے قبل تک دونوں آبی ذخائر روزانہ 40 ملین گیالن پانی سربراہ کررہے ہیں جس سے عثمان ساگر 25 اور حمایت ساگر 14 ملین گیالن آبی سربراہی کررہا ہے جب کہ اب شہر کو یومیہ 440 ملین گیالن پانی کی سربراہی کے لیے کرشنا ندی سے 270 ملین گیالن ، گوداوری سے 130 ملین گیالن جب کہ سنگور اور مانجرا سے مجموعی طور پر 48 ملین گیالن پانی سربراہ کیا جاتا ہے ۔ عثمان ساگر اور حمایت ساگر میں آبی ذخیرہ اندوزی ماحولیات کے توازن کے لیے بھی ضروری ہے ۔ ڈاکٹر ستیہ نارائن نے کہا کہ مذکورہ آبی ذخائر کا ڈیزائن شہر کو 602 ملین گیالن پانی تھا لیکن انتظامیہ نے اب مانگ اور سربراہی میں توازن کے لیے 440 ملین گیالن کا ہندسہ مقرر کیا ہے ۔۔