قاہرہ ۔ 12 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہیکہ حماس کے زیرکنٹرول غزہ پٹی اور جزیرہ نما سینائی کو مربوط کرنے والی سرنگ پر مصر کی جانب سے حملہ یا پھر اس ملک کی حفاظت کیلئے کی جانے والی کسی بھی کارروائی کی وہ تائید کریں گے۔ مصری میگزین الااہرام العربی دیا گیا۔ محمود عباس کا ایک انٹرویو کل شائع ہوگا۔ تاہم مصری خبر رساں ادارہ ہیں کی طرف سے جاری کردہ چند اقتباسات کے مطابق فلسطینی اتھاریٹی کے صدر محمود عباس نے کہا کہ ’’سرنگوں کو بند کرنے، غزہ اور سینائی کے درمیان اسلحہ کی منتقلی اور عوام کی گذر کو روکنے کیلے مصری حکام کی طرف سے کئے جانے والے تمام احتیاطی اقدامات کی ہم مکمل تائید کرتے ہیں‘‘۔ محمود عباس نے کہا کہ ’’مصر کو خطرہ سے محفوظ رکھنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی ہم بدستور تائید جاری رکھیں گے‘‘۔
2013ء میں اسلام پسند صدر محمد مرسی کی فوجی بغاوت کے ذریعہ معزولی کے بعد ملک کے نئے حکمراں، بالعموم مرسی کی اسلامی تنظیم اخوان المسلمین پر فلسطینی انتہاء پسند تنظیم حماس سے سازباز کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ حالیہ عرصہ کے دوران مصری فوج نے غزہ سے سینائی کو مربوط کرنے والی سرنگوں کو تباہ کرنے کے عمل میں شدت پیدا کردی ہے کیونکہ مصری فوج کا کہنا ہیکہ فلسطینی اسلام پسند تحریک (حماس) ان لڑکوں کو اسلحہ، غذا اور رقومات کی غیرمجاز منتقلی کیلئے استعمال کررہی ہے۔ مصر نے غزہ سے متصلہ اپنی سرحدوں کے قریب کئی خصوصی زونس قائم کئے ہیں جہاں عام شہریوں کے داخلہ پر پابندی عائد ہے۔ عسکریت پسندوں کی دراندازی وار اسلحہ کی اسمگلنگ کو روکنے کیلئے غزہ سے متصلہ مصری سرحدی علاقوں میں واقع سینکڑوں گھروں کو منہدم کردیا گیا ہے۔
غزہ پٹی پر حکمراں حماس اور مغربی کنارے پر حکمراں صدر عباس کی الفتح تحریک ایک دوسرے کے کٹر حریف ہیں جنہوں نے اس سال کے اوائل میں متحدہ حکومت تشکیل دینے سے اتفاق کیا تھا لیکن یہ مصالحتی مساعی کئی مرتبہ رکاوٹوں کا شکار ہوتی رہی ہے۔ مصر کو شبہ ہیکہ جزیرہ نما سینا میں سیکوریٹی فورسیس پر ہوئے کئی مہلک حملوں میں مصری جہادیوں کو فلسطینی حماس کی مدد حاصل تھی۔ فلسطینی اتھاریٹی کے صدر محمود عباس نے اپنے انٹرویو میں کہا ہیکہ ’’اگر یہ ثابت ہوتا ہیکہ مصر کے خلاف دہشت گرد حملوں میں حماس کے ارکان ملوث ہیں تو یہ اس (مصر) کا حق ہیکہ وہ انہیں (حماس کے ذمہ داروں کو) پکڑ کر سزاء دے‘‘۔ مصری جہادیوں کا کہنا ہیکہ وہ معاضی میں مرسی کے حامیوں کے خلاف پولیس کارروائی کا انتقام لے رہے ہیں۔ اس کارروائی میں تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔